پشاور: پی ٹی آئی جلسہ میں پاکستانی فوجی ترجمان کی غیر مہذب زبان استعمال کرنے کیخلاف قرارداد منظور

پاکستان تحریک انصاف کے پشاور کے جلسے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں جمعے کے روز ایک عسکری ترجمان کی پریس کانفرنس پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر قرارداد میں کہا گیا کہ غیر منتخب عسکری ترجمان کی طرف سے منتخب قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی گئی جو سول بالادستی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ قرارداد میں اس منطق کو بھی مسترد کیا گیا ہے جس کے تحت سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا۔

اس قرارداد میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ’قومی ہیرو‘ اور ’پاکستان کے منتخب حقیقی وزیرِ اعظم‘ قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عوام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا اور یہ تصور یکسر مسترد کیا جاتا ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کر کے رہا کیا جائے اور ان کی اہلِ خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔

اس قرارداد میں سیاسی جدوجہد کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جان دینے والے فوجی اہلکاروں کو بھی سلام پیش کیا گیا ہے۔

قرارداد میں گورنر راج کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے رکاوٹوں اور مبینہ دھاندلی کے باوجود تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے۔ اس لیے گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی۔

قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد پر عمل کیا جائے اور پی ٹی ایم کے وفد کو بازیاب کرایا جائے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن اب تک انھیں ان کے حقوق نہیں ملے۔ قرارداد میں نئے این ایف سی ایوارڈ میں ان حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اور تجارت کو بحال کیا جائے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

پشاور کے نو حلقوں میں انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے قرارداد میں الیکشن کمیشن سے فوری انصاف اور صوبائی حکومت سے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آخر میں قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت اور آزادیِ اظہار کو بحال کیا جائے، عدلیہ کو آزاد کیا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ ملک بحران سے نکل کر متحد ہو سکے۔

اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا جواب دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں گالیاں دوں۔‘

تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پارٹی کے دو جعلی وزرا اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے۔ نہ آپ ایک جعلی سینیٹر ہیں اور نہ آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیں۔‘

جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرس میں ان کے منھ سے کچھ سخت الفاظ سنائی دیے جن میں ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘، ’ذہنی مریض‘، ’خود پسند‘ اور ’اپنی ذات کا قیدی‘۔۔۔ شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے اس شخص کا نام نہیں لیا جس کے لیے وہ یہ الفاظ استعمال کر رہے تھے لیکن پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے ہر شخص کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کا مرکز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان ہی تھے۔

خود عمران خان گذشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فوج کے سربراہ (اور اب چیف آف ڈیفینس فورسز) فیلڈ مارشل عاصم منیر پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ ’میرے بڑوں نے مجھے ملک اور اس کے اداروں سے محبت سکھائی ہے۔‘

اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے، سنجیدہ تو آپ نہیں ہیں، 21 برس سے آپریشن پر آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے، 21 سال سے میرا پختون پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔‘

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ نے موجودہ سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر آنے والا بندہ ایک نئی پالیسی بناتا ہے اور ایک نیا تجربہ کرتا ہے۔ یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب ایک پالیسی بنے گی، یہ صوبے کے عوام بنائیں گے اور وہی پالیسی چلے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری ان باتوں سے تکلیف پہنچتی ہے، ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہم تکلیف پہنچائیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، یہ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرے گا، فیصلہ عوام کریں گے۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ہم پر کیا تنقید کر رہے ہو، ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا۔ اسی لیے ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس پاکستان کو خوشحال دیکھنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘

پشاور کے جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خطاب سے قبل قومی ترانہ بجایا گیا۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کا آغاز پشتو کے ایک شعر سے کیا، جس پر جلسے میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔

انھوں نے اپنے خطاب میں پشاور کے لیے سو ارب روپے کے پیکج کا بھی اعلان کیا۔

اس کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورننس ہے تو عوام تیسری مرتبہ عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’گورننس تو ان کی نہیں ہے جنھیں اب آئی ایم ایف نے چارج شیٹ کیا ہے کہ اشرافیہ نے عوام کے ٹیکسز میں سے پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کچھ سیاسی نابالغ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ صرف عمران خان کی بات کر رہے ہیں۔‘ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے عمران خان کے حق میں نعرے لگوائے اور کہا کہ ’جہاں تک میری ذات کی بات ہے تو مجھ پر جو الزامات لگے وہ آپ نے سنے۔ مجھے کبھی ایک نام سے پکارا گیا، کبھی دوسرے نام سے۔ میں علامہ محمد اقبال کا شاہین ہوں۔ کچھ کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو میں نے پرواز اونچی کرنی ہے، میں نے کوے سے نہیں لڑنا، یہ سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی حد تک تو کچھ نہیں کہتا مگر جب بات عمران خان کی آئے گی تو پھر جواب دیا جائے گا۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’عمران خان خیبر پختونخوا میں بھی ہے، پنجاب میں بھی ہے، سندھ میں بھی ہے، بلوچستان میں بھی ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہے اور عمران خان بیرونِ ملک بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں باہر جا کر آپ جن کے بوٹ پالش کرتے ہیں وہ عمران خان کو جھک کر سیلوٹ کرتے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ان لوگوں کو مشورہ دینے والا کچھ سمجھتا بھی ہے یا نہیں، وہ جو مشورہ دیتا ہے سب اس کے الٹ ہو جاتا ہے۔ عوام ان سے اور منحرف ہو جاتے ہیں۔ یہ مجمع اس بات کی گواہی ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

Share this content: