بنگلہ دیش میں نوجوان طالبِ علم رہنما کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ مقتول رہنما کی نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی۔
ایک جانب جہاں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں، ان پرتشدد مظاہروں کے خلاف بھی احتجاج ہو رہا ہے۔
جمعے کو اُساتذہ اور طلبہ سمیت دیگر افراد نے مظاہروں کے دوران نذرِ آتش کیے جانے والے میوزک سکول چھایاناوت بھبن کے سامنے دھرنا دیا۔
مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر ان پرتشدد مظاہروں کے خلاف نعرے درج تھے۔
اساتذہ اور طلبہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمیں عثمان ہادی کے قاتلوں کے لیے انصاف چاہیے، اخبارات اور سکولوں میں آگ نہیں لگائی جائے،‘ ’بچے رو رہے ہیں، سکولوں میں کتابیں چل رہی ہیں۔‘ جیسے نعرے درج تھے۔
قبل ازیں عبوری حکومت کے ثقافتی امور کے مشیر مصطفیٰ سرور فاروقی نے تباہ شدہ چھایاناوت بھبن کی عمارت کا دورہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
خیال رہے کہ جمعرات کی شب دھان منڈی میں واقع بنگلہ دیش کے تاریخی ثقافتی مراکز میں سے ایک، چھایاناوت کی عمارت میں توڑ پھوڑ کر کے آگ لگا دی گئی تھی۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی توڑ پھوڑ، آتش زنی اور اخبارات کے دفاتر پر حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
دریں اثنا عثمان ہادی کی میت کو لے کر جمعے کو طیارہ ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گیا ہے۔عثمان ہادی کی نماز جنازہ سنیچر کی دوپہر ڈھائی بجے پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی جائے گی۔
عثمان ہادی کے جنازے میں شرکت کے خواہشمند افراد سے خصوصی طور پر درخواست کی گئی ہے کہ وہ کوئی بھی بیگ یا بھاری چیزیں ساتھ نہ رکھیں۔
Share this content:


