پاکستان کے اسلام آباد کی ڈسڑکٹ اینڈ سیشن عدالت نے متنازع ویڈیوز اور ٹوئٹس کیس میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور یوٹیوبر سہراب برکت کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔
عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے جمعے کو ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
سہراب برکت کے خلاف نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
سہراب برکت کو 26 نومبر کو اُس وقت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جب ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے تھے۔
نیوز ویب سائٹ سیاست ڈاٹ پی کے سے وابستہ سہراب برکت کے خلاف این سی سی آئی اے میں ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
این سی سی آئی اے نے سہراب برکت کا 30 روزہ جسمانی طلب کیا تھا، تاہم عدالت نے ابتدائی طور پر اُن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔
صحافی سہراب برکت کی رہائی کے لئے جموں کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا تھا ۔
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں سہراب برکت کی رہائی اب بھی سر فہرست ہے ۔
یاد رہے کہ جموں کشمیر میں حالیہ عوامی تحریک جسے پاکستان کی مین اسٹریم میڈیا میں مکمل نظراندازکیا گیا تھا ، سہراب برکت اسے سپورٹ کرنے پیش پیش تھے۔جس کے بعد اسے ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
Share this content:


