کشمیر کے خطے جموں کے سِدھرا قصبے میں ایک چھ سالہ بچہ کو کچرے سے سنائپر رائفل پر لگائی جانے والی ٹیلیسکوپ ملنے کے بعد بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں گشت تیز کر دیا ہے۔
جموں کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز بتایا کہ ’سِدھرا کے ایک گائوں میں سیکورٹی اہلکاروں نے ایک چھ سالہ بچے کو دُوربین جیسے کسی آلے کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو انھوں فوراً اس آلے کو تحویل میں لے کر مقامی تھانے پہنچایا۔ آلے کی جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ چینی ساخت کا سنائپر ٹیلیسکوپ ہے، جسے کسی بھی اسالٹ یا سنائپر رائفل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔‘
پولیس کے مطابق بچے کے والدین سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ بچے کو یہ ٹیلیسکوپ اپنے گھر کے نزدیک کچرے کے ایک ڈھیر سے ملی تھی۔
اس برآمدگی کے بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے سِدھرا قصبے میں گشت تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب، ایک علیحدہ واقعہ میں قریبی ضلع سانبہ سے ایک کشمیری نوجوان تنویر احمد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وادی کے اننت ناگ ضلع سے تعلق رکھنے والے تنویر کے فون میں ایک پاکستانی فون نمبر ملنے کے بعد انہیں پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔
واضح رہے جس مقام سے چینی ٹیلیسکوپ ملا ہے وہاں نہ صرف انڈیا کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف اور دوسرے نیم فوجی اداروں کے بڑے کیمپ ہیں بلکہ یہیں انسداد دہشت گردی سے متعلق نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے کا صوبائی ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔
اس واقعہ کے بعد تمام حساس فوجی اور نیم فوجی تنصیبات کے ارد گرد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ شاہراہوں پر بھی گاڑیوں اور مسافروں کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سانبہ اور سِدھرا کے دونوں واقعات کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Share this content:


