معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 1974ء کو عموماً محض تاریخی یا آئینی دستاویزات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی حیثیت، اظہارِ رائے اور اجتماعی اختیار پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف کسی قانون کے خاتمے کا نہیں بلکہ ایک ایسے آئینی جمود کا ہے جس نے ریاستی شعور کو محدود اور عوامی آواز کو مشروط بنا دیا ہے۔
قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معاہدۂ کراچی ایک غیر منتخب، عبوری اور غیر نمائندہ معاہدہ تھا، جو ایک مخصوص سیاسی دباؤ اور غیر یقینی حالات میں طے پایا۔ اسے نا تو عوامی تائید حاصل تھی اور نا ہی کسی باقاعدہ آئینی عمل سے گزارا گیا۔ اس کے باوجود، اسی معاہدے کی بنیاد پرپاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے اہم ترین اختیارات دفاع، خارجہ امور اور مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی مؤقف، خطے کے عوام سے عملاً سلب کر لیے گئے۔ نتیجتاً آج نا خطے کے حکمران خود اس مسئلے پر آزادانہ بات کرنے کے مجاز ہیں اور نا عوام کو اس حوالے سے مکمل سیاسی حق حاصل ہے۔
ایکٹ 1974ء، جسے ایک آئینی فریم ورک کا نام دیا جاتا ہے، دراصل ایک محدود اور مشروط قانونی بندوبست ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ووٹ کا حق ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک مخصوص سیاسی مؤقف سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس خطے کی ایک بڑی آبادی، جو آزادی یا متبادل سیاسی مستقبل کی حامی ہے، عملی طور پر سیاسی عمل سے خارج ہے۔ یوں قانون عوامی رائے کے اظہار کا محافظ بننے کے بجائے سیاسی خاموشی اور زبان بندی کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے براہِ راست متصادم ہے۔
یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا ایسے معاہدات اور قوانین، جو عوام کو اپنے ہی مستقبل پر بات کرنے سے روکیں، کسی بھی اخلاقی یا آئینی جواز کے حامل ہو سکتے ہیں؟ اگر قانون خود اظہارِ رائے کی نفی کرے تو وہ انصاف نہیں بلکہ مہذب جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
تاہم، اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے گرد ایک مکمل انتظامی اور علاقائی ڈھانچہ موجود ہے۔ ادارے، مالی وسائل، اختیارات اور قانونی تشریحات سب کسی نا کسی صورت انہی دستاویزات سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ان کا خاتمہ محض ایک اعلان یا جذباتی مطالبے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک واضح، ذمہ دار اور مرحلہ وار قانونی فریم ورک ناگزیر ہے۔
سب سے پہلے معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا جامع قانونی و آئینی آڈٹ ہونا چاہیے، تاکہ ان شقوں کی نشاندہی کی جا سکے جو عوامی حقوق، حقِ خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔ اس عمل میں آزاد آئینی ماہرین، بار کونسلز، انسانی حقوق کے ادارے اور عوامی نمائندے شامل ہونا چاہییں، تاکہ تجزیہ حکومتی بیانیے تک محدود نہ رہے۔
اس کے بعد ایک باضابطہ آئینی مکالمے کا آغاز ضروری ہے، جس میں اس خطے کی تمام سیاسی و فکری آوازوں کو اظہار کا حق دیا جائے۔ آزادی، خودمختاری یا کسی بھی سیاسی مؤقف کو جرم یا غداری کے دائرے سے نکالے بغیر کوئی بھی آئینی اصلاح معتبر نہیں ہو سکتی۔ یہ مکالمہ تصادم کے بجائے اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بننا چاہیے۔
خاتمے کے عمل میں ایک عبوری آئینی فریم ورک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا فریم ورک جو سیاسی اظہار پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرے، ووٹ کے حق کو غیر مشروط انسانی حق تسلیم کرے اور انتظامی و مالی اختیارات کی واضح منتقلی کو یقینی بنائے، تاکہ آئینی خلا پیدا نہ ہو۔ یہ عبوری بندوبست مستقل آئینی حل کی طرف ایک سنجیدہ قدم ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد قانون ساز اداروں کے ذریعے ایکٹ 74ء کی تنسیخ اور معاہدۂ کراچی سے اخذ شدہ اختیارات کی واپسی کے لیے باضابطہ قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی ایک آئین ساز اسمبلی یا خصوصی آئینی کنونشن کے ذریعے ایک نئے، جامع اور عوامی نمائندہ آئینی ڈھانچے کی تشکیل ہونی چاہیے، جسے عدالتی تحفظ اور آئینی ضمانت حاصل ہو۔
چونکہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، اس لیے ان اصلاحات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق ایک داخلی آئینی عمل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ آخر میں، کسی بھی نئے آئینی بندوبست کی عوامی توثیق ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں کوئی معاہدہ یا قانون عوام کی رضا کے بغیر مسلط نہ کیا جا سکے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء باقی رہیں یا ختم ہوں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے عوام کو بولنے، سوچنے اور فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے یا نہیں۔ قومیں ماضی کو مٹانے سے نہیں بلکہ ماضی کو درست کرنے سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر یہ عمل سنجیدگی، شفافیت اور قانونی دیانت کے ساتھ انجام دیا جائے تو معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ انتشار نہیں بلکہ ریاستی بلوغت، عوامی خودمختاری اور سیاسی زبان بندی کے خاتمے کا آغاز بن سکتا ہے۔
Share this content:


