مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز

تحریر: دانش منظور

دنیا کی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو صرف جغرافیہ نہیں ہوتے یہ مقامات عالمی طاقت معیشت اور سیاست کی تقدیر کو متعین کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ان میں سے ایسا ہی ایک مقام ہے۔ یہ ایک تنگ سمندری راستہ ہے مگر اس کی اہمیت اتنی بڑی ہے کہ اس کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے اگر ہرمز بند ہو جائے تو دنیا کی معیشت لرز سکتی ہے۔ خلیج فارس کے کنارے واقع یہ چند کلومیٹر چوڑی گزرگاہ آج عالمی سیاست توانائی کی منڈی عسکری حکمت عملی اور جیوپولیٹیکل کشمکش کا مرکز بن چکی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی کشیدگی سے لے کر امریکہ کی فوجی موجودگی تک اور خلیج کی چھوٹی ریاستوں کے قیام سے لے کر عالمی تیل کی تجارت تک سب کی کہانی کہیں نہ کہیں آ کر آبنائے ہرمز سے جڑ جاتی ہے۔ سمندری اور جغرافیائی حدود میں اسے Strait of Hormuz بھی کہا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز اصل میں ایک قدرتی سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحرِ ہند اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان واقع ہے۔ اس کی کل چوڑائی تقریباً 39 کلومیٹر ہے مگر اصل جہاز رانی کا راستہ صرف چند کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اسے عالمی سیاست میں Chokepoint کہا جاتا ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہ راستہ دراصل سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کی توانائی کو دنیا تک پہنچاتا ہے۔ ایشیائی معیشتیں خصوصاً چائنہ انڈیا اور جاپان اپنی توانائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے حاصل کرتی ہیں۔ یوں یہ راستہ صرف ایک سمندری گزرگاہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ بن چکا ہے۔

آبنائے ہرمز کوئی جدید دریافت نہیں ہے۔ یہ ہزاروں سال سے موجود ایک قدرتی راستہ ہے جسے قدیم تہذیبیں استعمال کرتی تھیں۔ آبنائے ہرمز کی بنیاد کب پڑی اور یہ کب دریافت ہوا اس کا جواب ہمیں ارضیات اور تاریخِ جہازرانی دونوں میں ملتا ہے۔ آبنائے ہرمز انسانوں نے نہیں بنائی یا آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملاح نے دریافت نہیں کیا۔ یہ قدیم تہذیبوں کے لیے ایک معلوم تجارتی راستہ تھا اور یہ قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہے۔

تقریباً 3 سے 5 کروڑ سال پہلے جب عربین پلیٹ شمال کی طرف سرکی اور یوریشین پلیٹ سے ٹکرائی تو ایران کے پہاڑی سلسلے خصوصاً زاگرس اُبھرے۔ اسی ٹکراؤ اور سمندری فرش کی حرکات نے خلیجِ فارس کی تشکیل کی۔ بعد ازاں برفانی ادوار میں سمندر کی سطح اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ تقریباً 10سے 12 ہزار سال پہلے موجودہ سطحِ سمندر قائم ہوئی اور آبنائے ہرمز نے آج کی شکل اختیار کی۔ بطور قدرتی راستہ یہ ہزاروں نہیں، کروڑوں سال کے جغرافیائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس راستے سے میسوپوٹیمیا فارس وادی سندھ عرب جزیرہ اور مشرقی افریقہ قدیم زمانے میں یہاں سے گزرنے والی اشیاء کی تجارت کرتے تھے۔ ان اشیاء کی تجارت میں میں مصالحے، کپڑا، بخور موتی گھوڑے شامل تھے۔ ان علاقوں کے درمیان تجارت کے لیے یہ سمندری راستہ انتہائی اہم تھا۔

ہرمز کی معیشت کا بڑا حصہ برصغیر سے جڑا تھا گجرات کے تاجر کیرلا ملابار کے مصالحہ فروش ہندوستانی کپڑا عرب گھوڑوں کی ہندوستان منتقلی سب اسی راستے سے ممکن ہوئی اور یہی راستہ بعد میں مغل دور میں بھی اہم رہا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سمندری تجارت نے برصغیر اور خلیج کے درمیان تہذیبی تعلقات کو بھی مضبوط کیا۔ زبان، مذہب، ثقافت، اور صوفی تحریکیں اسی بحری نیٹ ورک سے پھیلیں۔ مصالحے، کپڑے، قیمتی پتھر اور دیگر اشیاء اسی راستے سے ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک پہنچتی تھیں۔ اس وقت یہ راستہ اہم تو تھا مگر عالمی طاقت کی سیاست کا مرکز نہیں تھا۔

16ویں صدی میں پہلی بار یورپی طاقتوں نے اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت کو محسوس کیا۔ 1507 میں پرتگالی مہم جو الفونسو دی البکرک نے ہرمز کے جزیرے پر قبضہ کر لیا۔ پرتگالیوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہاں ہندوستان کی تجارت پر کنٹرول حاصل کر سکیں۔ عرب سمندری راستوں کو قابو میں رکھ سکیں اور عثمانی سلطنت کو بھی محدود رکھ سکیں۔ تقریباً ایک صدی تک پرتگالی یہاں موجود رہے۔

1622 میں صفوی ایرانی حکمران شاہ عباس نے برطانیہ کی مدد سے پرتگالیوں کو نکال دیا۔ یہ ایسا مرحلہ تھا جب دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ جو ہرمز کو کنٹرول کرے گا وہ تجارت کو کنٹرول کرے گا۔

20 ویں صدی میں خلیج میں تیل کی دریافت نے اس خطے کی تقدیر بدل دی۔ 1908 میں ایران میں تیل دریافت ہوا۔ 1932 میں بحرین، 1938 میں سعودی عرب، 1940 کی دہائی میں کویت اور 1960 کی دہائی میں امارات میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے۔ تیل کی دریافت کے بعد یہ خطہ دنیا کی توانائی کا مرکز بن گیا۔ اسی لمحے سے عالمی طاقتوں کی نظریں اس خطے پر جم گئیں۔

تیل کی دریافت کے بعد خلیج میں کئی چھوٹی ریاستیں وجود میں آئیں جن میں کویت، قطر ، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ابتدا میں یہ سب برطانوی محافظین تھیں لیکن بعد میں ان کی جگہ امریکہ نے لے لی۔ ان ریاستوں کے بنانے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ یہاں تیل کی پیداوار اور نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جائے۔ آج خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی بہت وسیع ہے۔ امریکہ نے یہاں اہم مراکز بنائے۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑا کھڑا کیا۔ قطر میں العدید ایئر بیس بنایا۔ کویت میں امریکی فوجی تنصیبات قائم کیں امارات میں اپنے ائیر بیس اور بحری سہولیات بنائیں۔ ان تمام اڈوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جا سکے۔

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نظریاتی رخ دیا اور اسرائیل کی مخالفت اس نظریاتی رخ کا حصہ بن گئی۔ اس کے بعد خطے میں پراکسی نیٹ ورک وجود میں آیا جس میں حزب اللہ حماس حوثی اور مختلف ملیشیاز شامل ہو گئے۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل نے ایران کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

یہ کشیدگی اب پورے خطے میں مختلف محاذوں پر نظر آتی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کے پاس ایک اہم جغرافیائی فائدہ ہے۔ چونکہ ایران آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ اگرچہ ہرمز کو مکمل بند کرنا آسان نہیں مگر ایران کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسے خطرناک بنا سکتا ہے۔ اسی لیے ایران اکثر یہ پیغام دیتا ہے اگر ایران کا تیل نہیں نکل سکتا تو خلیج سے کسی کا تیل نہیں نکلے گا۔

اگر کسی جنگ میں ہرمز بند ہو جائے تو اس کے نتائج بہت بڑے ہوں گے۔ عالمی تیل کا شدید بحران پیدا ہو گا۔ توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گا اور عالمی معیشت میں بحران کے سبب ممکنہ عالمی جنگ کے بادل بھی منڈلا سکتے ہیں۔ اسی لیے ہرمز کو اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے حساس سمندری chokepoint ہے۔ تو اس لیے ہرمز صرف ایک سمندر یا جغرافیہ نہیں یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں عالمی معیشت توانائی کی سیاست عسکری حکمت عملی علاقائی جنگیں اور عالمی طاقتوں کی رقابت سب ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو دنیا کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کیا آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ اگر آبنائے ہرمز لرز جائے تو صرف خلیج ہی نہیں پوری دنیا کی معیشت لرز سکتی ہے۔اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے یہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔

آبنائے ہرمز کی اس پوری حقیقت کو جاننے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سیاست صرف نظریات یا نعروں اور مذہبی بیانیوں سے نہیں چلتی۔ اس کے پیچھے جغرافیہ وسائل اور طاقت کی وہ خاموش کشمکش ہوتی ہے جو پوری دنیا کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے خبروں کی سرخیوں تک محدود رہنے کے بجائے اس وسیع منظرنامے کو بھی دیکھنا ہوگا جہاں تیل کی ایک بوند سمندر کی ایک تنگ گزرگاہ اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی ایک دوسرے سے جڑ کر پوری دنیا کی معیشت اور سیاست کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز ایک سمندری راستہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید عالمی نظام کی وہ شہ رگ ہے جس کی دھڑکن پر آج بھی دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

٭٭٭

Share this content: