جنگ کے سائے میں بڑھتی دولت اور بکھرتی زندگیاں

افغانستان سے عراق، روس۔یوکرین سے ایران تک: جدید جنگوں میں انسانی المیے اور جنگی معیشت کا تلخ سچ

تحقیق و تحریر : خواجہ کبیر احمد

انسانی تاریخ میں جنگیں ہمیشہ طاقت، وسائل اور مفادات کی سیاست سے جڑی رہی ہیں۔ مگر ایک حقیقت تقریباً ہر جنگ میں مشترک نظر آتی ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے جبکہ اس کے معاشی فوائد اکثر طاقتور ریاستوں اور بڑے سرمایہ داروں کو حاصل ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آخری حصے اور اکیسویں صدی کے آغاز میں ہونے والی بڑی جنگیں افغانستان، خلیج فارس، عراق، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، روسیوکرین جنگ اور موجودہ ایران اسرائیل امریکہ کشیدگی اس تلخ حقیقت کی واضح مثالیں ہیں۔

عالمی تحقیقی ادارہ Costs of War Project (Brown University) کے مطابق 2001 کے بعد افغانستان، عراق، شام، یمن اور دیگر علاقوں میں ہونے والی جنگوں میں 9 لاکھ سے زیادہ افراد براہ راست جنگی تشدد میں ہلاک ہوئے جن میں 4 لاکھ سے زیادہ عام شہری شامل تھے۔ اگر جنگ کے بالواسطہ اثرات جیسے بیماری، غذائی بحران، تباہ شدہ صحت کا نظام اور معاشی تباہی کو شامل کیا جائے تو مجموعی اموات 45 سے 47 لاکھ افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔ اسی تحقیق کے مطابق ان جنگوں کے نتیجے میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔

سوویت یونین اور افغانستان کی 1979–1989 تک کی جنگ میں سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت نے سرد جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس جنگ میں تقریباً 10 لاکھ افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ 50 لاکھ سے زیادہ افراد مہاجر بن گئے۔ اس طویل جنگ نے افغانستان کے بنیادی ڈھانچے، معیشت اور تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے اثرات آج بھی افغان معاشرے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

11 ستمبر 2001 کے امریکہ میں حملوں کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی جو تقریباً بیس سال (2001–2021) تک جاری رہی۔ اس جنگ میں 46 ہزار سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں افراد زخمی یا معذور ہوئے۔

معاشی لحاظ سے یہ جنگ دنیا کی مہنگی ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق افغانستان اور اس سے متعلقہ جنگی اخراجات پر 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ جنگ کے نتیجے میں افغانستان کی معیشت کمزور ہوئی، غربت میں اضافہ ہوا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔

1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے فوجی کارروائی کی۔ یہ جنگ مختصر تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی توانائی کی منڈی کو گہرے اثرات سے دوچار کیا۔ خلیج فارس کے تیل کے ذخائر عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک مسئلہ بن گئے اور خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا۔

2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کیا جس کے اثرات آج بھی پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 3 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔

اس جنگ کی مالی لاگت 2 سے 3 ٹریلین ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عراق میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی میں اضافہ ہوا جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے

2001 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مختلف ممالک میں فوجی کارروائیاں کیں جنہیں مجموعی طور پر “وار آن ٹیرر” کہا جاتا ہے۔ اس عالمی جنگ پر مجموعی طور پر 8 ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے۔
ان جنگوں کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے معاشی اور سماجی اثرات دہائیوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

2022 میں شروع ہونے والی روس یوکرین جنگ نے یورپ کی سیاست اور عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا۔ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے جبکہ ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک ہوئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا اور عالمی اسلحہ کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا۔

حالیہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جنگ نے ایک خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 2026 میں ہونے والے فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں ایران اور خطے کے دیگر حصوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ( جنگ جاری ہے لہذا مصدقہ اعداد و شمار کا ملنا تا حال ممکن نہیں )

اس کشیدگی نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں تناؤ کو بڑھا دیا ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔

جنگ کا ایک اہم پہلو “جنگی معیشت” ہے۔ جب جنگ شروع ہوتی ہے تو اسلحہ، فوجی ٹیکنالوجی، ایندھن اور دفاعی نظام کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

عالمی تحقیقاتی ادارہ SIPRI کے مطابق دنیا کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی سالانہ فروخت تقریباً 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران ان کمپنیوں کے دفاعی معاہدوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور عالمی اسلحہ کی صنعت مسلسل بڑھتی رہی۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں نے عالمی توانائی کی سیاست کو بھی متاثر کیا۔ خلیج فارس کے تیل اور گیس کے ذخائر عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اسی لیے اس خطے میں ہونے والی جنگوں کا اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر براہ راست پڑتا ہے۔جنگ کے بعد تباہ شدہ ممالک میں تعمیرِ نو کے اربوں ڈالر کے منصوبے شروع ہوتے ہیں جن کے بڑے ٹھیکے اکثر بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کو ملتے ہیں۔

جنگ کے میدان میں لڑنے والا سپاہی بھی عام گھرانے سے ہوتا ہے اور مرنے والا شہری بھی ایک عام انسان ہوتا ہے۔ مگر جنگ ختم ہونے کے بعد اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔تباہ شدہ معیشت،برباد تعلیمی نظام،صحت کے بحران،مہاجرین کے بڑے بحران،یہ مسائل کئی دہائیوں تک معاشروں کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگیں میدانِ جنگ میں ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں۔ ایک طرف عام انسان اپنی جان، گھر اور مستقبل کھو دیتا ہے جبکہ دوسری طرف جنگی معیشت سے جڑے سرمایہ دار اپنی دولت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔اسی لیے اکثر مفکرین کہتے ہیں کہ :

جنگ کے میدان میں مرنے والا بھی عام انسان ہوتا ہے اور مارنے والا بھی عام انسان، مگر اس جنگ کا منافع اکثر وہ لوگ سمیٹتے ہیں جو میدانِ جنگ سے بہت دور بیٹھے ہوتے ہیں۔

نوٹ:
اس کالم میں بیان کیے گئے اعداد و شمار مختلف بین الاقوامی تحقیقی اداروں اور رپورٹس جیسے Brown University Cost of War Project، SIPRI اور دیگر عالمی تحقیقی اداروں میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

٭٭٭

Share this content: