ایران میں احتجاج جاری ، مظاہرین کی ہلاکتوں پر امریکی صدر کی سخت کارروائی کی دھمکی

ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مزید ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ان مظاہرے کو حالیہ برسوں میں ایرانی حکام کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں ہوئیں تو تہران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

جمعرات کی شام تہران اور ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں ہونے والے ان مظاہروں میں شامل افراد کو سکیورٹی فورسز نے منتشر نہیں کیا۔

ایران میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مُلک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ایک مانیٹرنگ گروپ نے بھی کی ہے۔

ویڈیوز میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کرتے سُنا جا سکتا ہے۔ رضا پہلوی نے گذشتہ روز اپنے حامیوں سے سڑکوں پر آنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک سے مظاہرین کی مدد کی اپیل کی تھی۔

یہ مظاہرے مسلسل 13 روز سے جاری ہیں، جن کی ابتدا ایرانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور مہنگائی کے بعد ہوئی۔ مظاہروں کا سلسلہ ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکا ہے۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک کم از کم 34 مظاہرین، جن میں پانچ بچے شامل ہیں، اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2270 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 45 مظاہرین، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران میں احتجاجی تحریک کے 13ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا اور انھیں قتل کیا گیا تو امریکہ ’سخت کارروائی‘ کرے گا۔

صحافی ہیُو ہیوِٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’درجنوں افراد ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چُکے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، ہم ایران کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا، کچھ مقامات پر مظاہروں کے دوران بھگدڑ مچنے کی بھی اطلاعات ہیں اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران کُچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’واضح طور پر میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ ان حالات کا ذمہ دار کسی ٹھہرایا جائے۔ لیکن انھیں بتایا جا چکا ہے اور سخت انداز میں پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایران بھر میں جاری حکومت مخلاف مظاہروں کے دوران سامنے آیا ہے۔

Share this content: