سیاسی دھوکہ دہی اور آزاد جموں و کشمیر کی عوامی تحریک کو کچلنے کی منصوبہ بندی۔۔۔ حبیب الرحمن

آزاد جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی زمین اور قدرتی وسائل پر حقِ ملکیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبات کسی انتشار یا بغاوت پر مبنی نہیں بلکہ بنیادی جمہوری حقوق کا حصہ ہیں، جن کا مقصد باعزت زندگی، معاشی انصاف اور مقامی خودمختاری کا حصول ہے۔ مگر ریاستِ پاکستان کا رویہ ان جائز مطالبات کے حوالے سے مسلسل دھوکہ دہی، ٹال مٹول اور جبر پر مبنی رہا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں ابھرنے والی عوامی تحریک دراصل استحصال، ناانصافی اور وسائل پر پاکستان کنٹرول کے خلاف ایک پرامن آواز ہے۔ اس تحریک کا مقصد تصادم نہیں بلکہ مکالمہ اور حق کی بازیابی ہے۔ لیکن اس کے برعکس، پاکستان کی حکومت نے سنجیدہ بات چیت کے بجائے جھوٹے وعدے، وقتی اعلانات اور پسِ پردہ ایسی پالیسیاں اپنائیں جو عوامی مفادات کے بجائے اشرافیہ اور طاقتور حلقوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عوامی تحریک کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی منظم منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی عوام نے اپنے معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کی، ریاست نے اصلاحات کے بجائے طاقت کا سہارا لیا۔ پرامن تحریکوں کو خطرہ قرار دیا گیا، قیادت کو نشانہ بنایا گیا، اور عوامی آواز کو دبانے کے لیے خوف اور دباؤ کا استعمال کیا گیا۔

عوامی تحریک کی قیادت کو اس صورتحال کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔ پاکستان واضح طور پر یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اپنی زمین اور وسائل پر مستقل اور منظم جدوجہد کریں۔ اس بات کا حقیقی خدشہ موجود ہے کہ ریاست اس تحریک کو کچلنے کے لیے سخت اور ظالمانہ اقدامات کر سکتی ہے، جن میں گرفتاریاں، طاقت کا استعمال اور منفی پروپیگنڈا شامل ہو سکتا ہے۔

تاہم، جبر اور تشدد سچ کو ختم نہیں کر سکتے۔ زمین اور وسائل پر حقِ ملکیت کوئی غیرقانونی یا غیر اخلاقی مطالبہ نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ انسانی حق ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو خاموش کرانے کی ہر کوشش ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کرے گی اور پاکستان کے جمہوری دعوؤں کو بے نقاب کرے گی۔

مستقبل کا انحصار شعور، اتحاد اور پُرامن جدوجہد پر ہے۔ عوامی تحریک کو ہوشیار، منظم اور عدم تشدد کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔ ساتھ ہی سول سوسائٹی، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔ کسی بھی پُرامن تحریک پر حملہ دراصل جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔

تاریخ ہمیشہ انصاف کے لیے ڈٹ جانے والوں کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔ دھوکہ اور جبر وقتی طور پر تبدیلی کو روک سکتے ہیں، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔

٭٭٭

Share this content: