ایران میں جاری مظاہرے 100 سے زائد شہروں تک پھیل گئے، 48 افراد ہلاک

ایران میں 28 دسمبر کو شدید مہنگائی اور کرنسی تنزلی کے نتیجے میں شروع ہونے والا حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ، انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔

ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔

جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 48 ہوگئی ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں۔

ایران میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کردی گئی ہے جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

ایرانی میڈیا نے کرمانشاہ میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔

Share this content: