پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے بدین میں ہندونوجوان کیلاش کے قتل کے خلاف اہلخانہ کا دھرنا جاری ہے جو قاتل زمیندارکی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ملزم کو گرفتار کر کے ہمارے سامنے لایا جائے۔ پولیس ایک ہفتے سے وعدے کر رہی ہے لیکن وعدہ وفا نہیں ہو رہا۔‘ یہ کہنا ہے صوبہ سندھ کے ضلع بدین کے علاقے تلہار میں نوجوان کیلاش کولہی کی بیوی لکھی کولہی کا جنھوں نے انصاف کے حصول کے لیے اپنے ساس سسر اور دیور کے علاوہ مقامی لوگوں کے ہمراہ دھرنا دیا ہے۔
لکھی کولھی نے میڈیا کو بتایا کہ ایک زمیندار نے کیلاش کو جھونپڑی بنانے سے منع کیا، انھیں دھمکیاں دیں اور بالآخر ان کے سینے میں گولی مار دی۔
جب وہ وہاں پہنچیں تو کیلاش ’زمین پر گرا ہوا تھا اور بیہوش ہوچکا تھا، جس کو ہسپتال لے گئے لیکن وہ وفات پا گیا۔‘
کیلاش پانچ بچوں کے والد ہیں اور ان کے آٹھ بہن بھائی ہیں۔ ان کے والد چیتن کے مطابق ’ایس ایس پی نے یقین دہانی کرائی کہ 24 گھنٹے میں ملزمان گرفتار ہو جائیں گے لیکن اس احتجاج کو بھی تین روز ہوگئے ہیں۔ ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔‘
ان کا یہی مطالبہ ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے سامنے لایا جائے۔
ایس ایس پی قمر جسکانی نے بتایا کہ کیلاش چار ایکڑ زمین پر بطور کسان کام کرتے تھے۔ ان کے مطابق واقعے والے روز ملزم نے ’کیلاش کو روکا کہ وہ جھونپڑی وہاں نہ بنائے کیونکہ یہ اس کی زمین ہے جس پر دونوں کے بیچ تلخ کلامی ہوئی اور فائرنگ میں وہ ہلاک ہو گئے۔‘
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ یہ الزام دست نہیں کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ اہل خانہ کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ ’تاخیر لواحقین کی جانب سے ہوئی جنھوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کرایا اور بعد میں آخری رسومات کے بعد آ کر مقدمہ درج کرایا۔‘
ایس ایس پی جسکانی کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہیں لیکن اس کا سراغ نہیں مل رہا۔ وہ پرامید ہیں کہ اگلے دو روز میں ملزم گرفتار ہو جائے گا۔
اس میں مدعی پون کولہی نے بتایا ہے کہ ’کیلاش پہلے سرفراز نامی زمیندار کے پاس کام کرتے تھے۔ تاہم بعد میں وہ اعجاز نظامانی کے پاس کسان بن گئے تھے۔ چار جنوری کو کیلاش، وشنو اور گووند زمین میں بھنڈی کی فصل کے لیے جھونپڑی بنا رہے تھے کہ شام ساڑھے چار بجے کے قریب سرفراز مہران کار میں وہاں آیا اور کہا کہ ’تم نے میرے پاس کام چھوڑ کر اعجاز کے پاس کام شروع کر دیا ہے، یہاں جھونپڑی مت بناؤ۔‘
’کیلاش نے جواب دیا کہ ہمیں گالیاں نہ دو، جس پر وہ مشتعل ہو گیا اور کار میں سے پسٹل نکال کر ان کے سامنے کیلاش پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ کیلاش زمین پر گر گیا اور اس سے خون بہنے لگا، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔‘
ادھر حکومتِ سندھ کے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے کیلاش کے ’بے دردی سے قتل‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے ایک ’وحشیانہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ‘ قرار دیا۔
انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ سندھ نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ’شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں اور مجرم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔‘
ہمنانی نے اس بات کی ضمانت دی کہ مجرم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
Share this content:


