ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جب سے ایران میں مظاہرے شروع ہوئے ہیں، اب تک نو بچوں سمیت کم از کم 648 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
ناروے میں قائم تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مغدام نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ تعداد کم سے کم ہے اور اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے
ان کے بقول ’کیونکہ ہمیں بہت سے شہروں سے قابل اعتماد معلومات نہیں ملی ہیں۔‘
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور معلومات تک رسائی پر سخت پابندیوں کی وجہ سے موجودہ حالات میں آزادانہ تصدیق کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس انداز میں دستاویز کرنا تقریباً ناممکن ہے جس طرح تنظیم نے ہمیشہ کیا ہے۔
ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اندازہ لگایا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس میں ایران کے خلاف تازہ ترین آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم انھوں نے بارہا کہا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کا قتل عام ہوا تو امریکی حکومت ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق صدر ’ہمیشہ تمام آپشنز پر غور کرتے ہیں اور فضائی حملہ بھی ان میں شامل ہے۔‘
ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’سفارت کاری صدر کا پہلا آپشن ہے۔ انھوں نے کل رات بھی یہی کہا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے عوامی سطح پر جو بیانات دیے جا رہے ہیں وہ ان پیغامات سے مختلف ہیں جو ہمیں نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں اور صدر ان پیغامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مزید کہا کہ ’صدر نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بھی وہ ضروری سمجھیں تو فوجی آپشن استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے اور ایران اس حقیقت کو سب سے بہتر جانتا ہے۔‘
Share this content:


