علی خامنائی کی آمریت کیخلاف ایرانی عوام کی بغاوت ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے،تودہ پارٹی

ایران کی کمیونسٹ، مارکسسٹ اورلیننسٹ سیاسی پارٹی "تودہ پارٹی آف ایران” (Hezb-e Tudeh-ye Iran) نے ایران میں جاری عوامی بغاوت پر محنت کش اور باخبر عوام ،مزدوروں ، محنت کش طبقوں، خواتین اور ایران کے دلیر نوجوانوں اور طلبہ کے نام جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوامی احتجاجی تحریک، جس کا آغاز تہران کے بازار میں احتجاج اور ہڑتالوں سے ہوا، گزشتہ تیرہ دنوں میں تیزی سے پھیل کر ملک کے درجنوں شہروں اور قصبوں تک جا پہنچی ہے اور اب یہ حکمران آمریت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عوامی احتجاجی تحریک، جس کا آغاز تہران کے بازار میں احتجاج اور ہڑتالوں سے ہوا، گزشتہ تیرہ دنوں میں تیزی سے پھیل کر ملک کے درجنوں شہروں اور قصبوں تک جا پہنچی ہے اور اب یہ حکمران آمریت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران آمر کے دعوؤں کے برخلاف، یہ عوامی تحریک نہ تو امریکی سامراج کی پیداوار ہے اور نہ ہی نسل کُش صہیونی ریاست اسرائیل کی سازش، بلکہ یہ براہِ راست اس حکمران بڑے سرمایہ دار نظام کی تباہ کن معاشی پالیسیوں، وسیع بدعنوانی، عدم تحفظ اور اس ہمہ گیر جبر کا نتیجہ ہے جو اقتدار میں موجود طبقے اور اس کے حواریوں نے قوم پر مسلط کر رکھا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایران کی جدید تاریخ میں (بشمول پہلوی بادشاہت کے پچاس سال سے زیادہ کا دورِ حکومت [1925–1979]) ہم اس طرح کے جبر، بدعنوانی اور لوٹ مار کی بے شمار مثالیں دیکھ چکے ہیں، اور ساتھ ہی ان نظاموں کے انجام سے بھی واقف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے درجنوں شہروں میں لاکھوں عوام کی یہ بہادر جدوجہد، جسے طاقت کے ذریعے کچلنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی عوام کی بھاری اکثریت موجودہ بدعنوان اور عوام دشمن حکومت کو مزید برداشت نہیں کرنا چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ نیولبرل پالیسیوں اور نام نہاد “معاشی جراحی” (نیولبرل شاک تھراپی) کے نفاذ کے ذریعے اس حکومت نے کروڑوں ایرانیوں کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ مزدوروں اور محنت کش عوام کی حالت اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ان کی اجرت اور آمدنی زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو چکی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکومت ملک کی پیداواری معیشت کو تباہ کر چکی ہے اور “اسلامی انقلاب کی برآمد” کے نام پر اختیار کی گئی اس کی مہم جو خارجہ پالیسیوں نے ایران کو مزید بیرونی مداخلت اور اس کے تباہ کن نتائج کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح “17 سیاسی اور سماجی کارکنوں” کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے، ہم بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ“اس بحران سے نکلنے کا واحد قابلِ عمل راستہ عوام کے فعال کردار اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے اظہار سے گزرتا ہے۔۔۔ یہ راستہ نہ تو اندرونی آمروں کے ساتھ چلتا ہے اور نہ ہی جنگ اور غیر ملکی طاقتوں پر انحصار سے ہو کر گزرتا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ مستقبل، جس کی خواہش ایرانی عوام کی اکثریت رکھتی ہے، صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام محبِ وطن، آزادی پسند اور ترقی پسند سماجی قوتیں باہمی تعاون، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کو فروغ دیں۔

ترجمان نے کہا کہ موجودہ عوامی تحریک کو درپیش ایک سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف کوئی واضح، ترقی پسند قومی قیادت موجود نہیں، اور دوسری طرف سامراجی میڈیا ادارے—جیسے بی بی سی—اور سامراج کے رجعتی ایجنٹ، مثلاً ایران انٹرنیشنل، من و تو اور دیگر، دانستہ طور پر ایک جعلی قیادت اور گمراہ کن بیانیہ گھڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں سے بعض ذرائع ابلاغ نے احتجاجی ویڈیوز میں رد و بدل کر کے، آوازیں شامل کر کے اور مناظر کی جوڑ توڑ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس عوامی بغاوت کا مرکزی مطالبہ (پہلوی) بادشاہت کی بحالی ہے، اور پھر اسی جھوٹے بیانیے کو مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزبِ تودہ ایران کا واضح مؤقف ہے کہ موجودہ مذہبی-سرمایہ دار آمریت کو ایک بادشاہی-سرمایہ دار نظام سے بدل دینا، جس کا مطلب 1979ء سے پہلے کے جابرانہ نظام کی بحالی ہے، ایران کو ایک بار پھر خطے میں سامراجی فوجی اڈا بنانا، اور تیل و دیگر قدرتی وسائل کی لوٹ مار ہوگا۔ یہ ہرگز آزادی، آمریت سے نجات یا حقیقی سماجی انصاف کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ وہ قوتیں جو نیم فاشسٹ ٹرمپ انتظامیہ اور نسل کُش اسرائیلی حکومت سے “ایران کی آزادی” کی امید لگائے بیٹھی ہیں، کسی بھی صورت ایک آزاد، خود مختار اور خوشحال ایران کی علمبردار نہیں ہو سکتیں۔عراق اور لیبیا کے تلخ تجربات—جو براہِ راست سامراجی مداخلت کے بعد سامنے آئے—ملک کی تمام ترقی پسند اور آزادی پسند قوتوں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہونی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تمام تر توانائیاں اس عوامی بغاوت کے تسلسل اور پھیلاؤ کے لیے صرف کریں، یہاں تک کہ فتح حاصل ہو۔مزدوروں، محنت کش عوام، پنشنرز، سرکاری ملازمین، دانشوروں اور متوسط طبقے کے محبِ وطن حصوں کی براہِ راست اور وسیع شرکت اس تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ تمام ترقی پسند قوتوں کے درمیان عملی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہمیں بیک وقت حکمران آمریت اور امریکی سامراج کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ملک گیر عام ہڑتال کی تنظیم، تاکہ اسلامی جمہوریہ کی حکمرانی کی صلاحیت کو محدود کر کے مکمل طور پر ختم کیا جا سکے، اور ایک عبوری قومی-عوامی حکومت کا قیام، جس کے تحت آزاد اور جمہوری ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے—یہ وہ بنیادی حکمتِ عملیاں ہیں جن پر فوری طور پر عمل کیا جانا چاہیے۔

بیان میں عوامی احتجاج کی بھرپورحمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے خلاف، غربت، بے روزگاری، امتیاز اور جبر کے خلاف، عوامی جدوجہد ایک راست اقدام ہے ۔فوج اور سکیورٹی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تم بھی اسی قوم کا حصہ ہو، آمرانہ نظام کے خلاف عوام کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ!پرامن مظاہرین کے خلاف خونی اور پرتشدد کریک ڈاؤن بند کرو۔طبی مراکز اور اسپتالوں پر حملے انسانیت کے خلاف جرائم ہیں، انہیں فوراً روکا جائے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ تحریک کے تمام گرفتار افراد، تمام سیاسی قیدی اور ضمیر کے قیدی بلا شرط اور فوری طور پر رہا کیے جائیں! اور عوام ملک گیر عام ہڑتال کی تیاری کی طرف آگے ۔

یاد رہے کہ تودہ پارٹی آف ایران کی بنیاد 1941 میں ایران کے اندر رکھی گئی تھی، اور یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران کی سب سے بڑی بائیں بازو کی جماعت بن گئی تھی۔ لیکن آج اس کی مرکزی قیادت ایران کے باہر جلاوطنی میں کام کرتی ہے ، خاص طور پر جرمنی (برلن) اور برطانیہ (لندن) سے۔اس کی وجہ ایران میں 1983 میں اسلامی جمہوریہ نے تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی، اس کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اور پارٹی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

اس کے بعد پارٹی کی قیادت یورپ منتقل ہو گئی اور آج بھی وہیں سے اپنا سیاسی و نظریاتی کام جاری رکھتی ہے۔تودہ پارٹی 1940۔1950 میں ایران کی سب سے بڑی لیفٹ پارٹی تھی۔ آج تودہ پارٹی ایران کے اندر خفیہ اور محدود سرگرمیاں (سرکاری طور پر غیر قانونی)جبکہ ایران کے باہریورپ میں فعال، خاص طور پر برلن (مرکزی دفتر) لندن۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر سیاسی بیانیہ اور بیانات جاری کرتی ہے۔

Share this content: