امریکی صدر گرین لینڈ کو فتح کرنے پرمُصرہیں جو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے،ڈنمارک

ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ پایا جاتا ہے۔

لارس لوکی راسموسن کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات ’بے تکلف لیکن تعمیری‘ رہی۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو ’فتح‘ کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جو کہ ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ [ڈنمارک] کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر وسائل سے مالا مال جزیرے کے حصول میں اپنی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

امریکی صدر کی اس پوزیشن نے ان کے یورپ کے اتحادیوں کو ہلا کر رکھا ہوا ہے جبکہ اس کی وجہ سے نیٹو کے ساتھ تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت موجود ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے اور وزیراعظم میتے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی طاقت استعمال کی گئی تو یہ ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد کے خاتمے کی علامت ہوگی۔

Share this content: