ایران میں قتلِ عام بند ہوگیا، پھانسی کی سزاؤں پر عمل نہیں ہوگا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ’مستند ذرائع‘ سے پہنچنے والی معلومات کے مطابق ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں ہوگا۔

بدھ کی رات اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پہنچنے والی معلومات کے مطابق ایران کا پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ایران میں قتلِ عامل دوبارہ شروع ہونے یا پھانسی کی سزاؤں صورت میں امریکہ سخت ردِ عمل دے گا۔

اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دیتی ہے تو امریکہ ’بہت سخت کارروائی‘ کرے گا۔

اس کے ردِعمل میں ایران نے کہا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ قطر میں اپنے العدید ایئر بیس پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم کر رہا ہے۔ حکام نے اس اقدام کو ’احتیاطی تدبیر‘ قرار دیا ہے۔

العُدید فضائی سے بعض اہلکاروں کے انخلا سے متعلق گردش کرتی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے ریاستِ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ علاقائی کشیدگی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

آئی ایم او نے اس بات کی توثیق کی کہ ریاستِ قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی سہولیات کے تحفظ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔

آئی ایم او نے مزید کہا کہ اگر کوئی نئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے باضابطہ اور مقررہ ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔

Share this content: