گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے، جس میں جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو ’ریکنائسنس مشن‘ یعنی ’جائزہ لینے والا مشن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ابتدائی دستے کو جلد ہی زمینی، فضائی اور بحری اثاثوں کے ساتھ مزید مضبوط کیا جائے گا۔ فرانسیسی سفارتکار اولیویئر پووردآور نے اس مشن کو ایک سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی مشق ہے۔۔۔ ہم امریکہ کو دکھائیں گے کہ نیٹو موجود ہے۔‘
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ ’اگرچہ بات چیت تعمیری رہی، لیکن فریقین کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ برقرار ہے۔‘ انھوں نے صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کی کوشش پر بھی تنقید کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیں تو ڈنمارک کچھ نہیں کر سکتا، لیکن ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپی فوجی دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی اور نہ ہی گرین لینڈ کے حصول کے ہدف کو متاثر کرے گی۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ان کا ملک گرین لینڈ میں یورپی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے وہاں فوجی مداخلت کی تو یہ ’سیاسی تباہی‘ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’نیٹو کے ایک رکن ملک کی سرزمین پر دوسرے رکن ملک کا قبضہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔‘
روس کے سفارتخانے نے بیلجیم میں جاری بیان میں آرکٹک کی صورتحال پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا اور نیٹو پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو اور بیجنگ کے خطرے کے بہانے فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
Share this content:


