گرین لینڈ کی ملکیت دینے میں ہاں کہیں گے تو شکر گزار رہوں گا، نہ کہیں گے تو یاد رکھوں گا، ٹرمپ کا یورپ کو پیغام

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ورلڈ اکنامک فورم سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے حصول کی بات کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو کہا کہ گرین لینڈ کے پاس انتخاب ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ ہاں کہہ سکتے ہیں اور ہم بہت شکر گزار ہوں گے، یا آپ نہ کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایک مضبوط اور محفوظ امریکہ کا مطلب ہے ایک مضبوط نیٹو۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نیٹو کے ساتھ سو فیصد کھڑا ہوگا، لیکن یہ یقین نہیں کہ اتحادی بھی ’بدلے میں یہی کریں گے۔‘

انھوں نے یوکرین کی جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کو یہ جنگ ختم کرنی ہوگی کیونکہ ’بہت سے لوگ بلا وجہ مر رہے ہیں۔

‘ ان کا کہنا تھا کہ پوتن اور زیلنسکی دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو دفاعی شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کچھ نہیں ملے گا جب تک میں طاقت کا حد سے زیادہ استعمال نہ کروں، ہم ناقابلِ شکست ہوں گے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’مجھے طاقت استعمال نہیں کرنی، میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا، اور میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ صرف ’گرین لینڈ نامی ایک جگہ‘ مانگ رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یورپ اور نیٹو کی مدد کرے گا، اور اس کے بدلے میں وہ صرف ’برف کا ایک ٹکڑا‘ چاہتے ہیں، جس سے ان کی مراد گرین لینڈ تھی۔

انھوں نے اسے نیٹو کو دی گئی امریکی قربانیوں کے مقابلے میں ایک ’چھوٹی درخواست‘ قرار دیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ’یورپ کو نہیں پہچانتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یورپ سے محبت ہے، میں اسے ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن یہ صحیح سمت میں نہیں جا رہا ہے۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتے لیکن ان کے دوست یورپ سے واپس آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ اسے نہیں پہچانتے۔

عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اور ریکارڈ بجٹ اور تجارتی خسارے کا ذکر کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے: ’میں گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے فوری مذاکرات چاہتا ہوں۔‘

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی صدور تقریباً دو صدیوں سے گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جزیرے پر ’ڈنمارک کی کوئی موجودگی نہیں‘ اور ڈنمارک گرین لینڈ پر اتنا خرچ نہیں کر رہا جتنا اس نے وعدہ کیا تھا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ صرف امریکہ ہے جو اس بڑے خطۂ زمین، اس بڑے برفانی ٹکڑے کو محفوظ بنا سکتا ہے، اسے ترقی دے سکتا ہے اور بہتر بنا سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کو حاصل کرنے کے لیے ’فوری مذاکرات‘ چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں بات جاری رکھتے ہوئے اسے ’ایک وسیع، تقریباً غیر آباد اور غیر ترقی یافتہ ملک، جو غیر محفوظ پڑا ہے‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’گرین لینڈ میں نایاب معدنیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل اہمیت اس کی سٹریٹجک قومی سلامتی اور بین الاقوامی سلامتی ہے۔‘

Share this content: