مارکسزم کو بارہا تاریخ کا بوجھ، ایک ناکام تجربہ، یا ماضی کا قصہ قرار دے کر دفن کرنے کی کوشش کی گئی، مگر عالمی طاقت کے ایوانوں میں اس نظریے سے آج بھی ایک واضح بے چینی محسوس کی جاتی ہے۔ اگر مارکس واقعی غیر متعلق ہو چکا ہوتا تو نصاب سے خارج کرنے، میڈیا میں بدنام کرنے، اور سیاسی سطح پر کچلنے کی منظم کوششوں کی ضرورت نہ ہوتی۔ یہ خوف اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مارکسزم آج بھی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی، سیاسی اور اخلاقی بنیادوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔¹
گلوبل ساؤتھ یعنی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام کے لیے مارکسزم محض ایک یورپی فلسفی کا نظریہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط نوآبادیاتی غلامی، سامراجی استحصال اور جدید عالمی سرمایہ داری کے جبر کو سمجھنے اور اس کے خلاف فکری مہم / Campaign کا ایک ہتھیار رہا ہے۔² مارکسزم یہ سوال اٹھاتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں کیوں مرتکز ہے، غربت کیوں مستقل ہے، اور آزادی کے بعد بھی محکوم اقوام حقیقی خودمختاری سے محروم کیوں ہیں۔ یہی سوالات طاقت کے ایوانوں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔
یہ مطالعہ مارکسزم کے خلاف عالمی مہم کو سامراج مخالف اور گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
مارکسزم اور سامراجی نظام کا فکری چیلنج
کارل مارکس نے سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظام نہیں بلکہ ایک عالمی استحصالی ڈھانچے کے طور پر دیکھا، جو منافع کے حصول کے لیے انسانی محنت اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔³ سرمایہ دارانہ نظام اپنی بقا کے لیے مسلسل توسیع چاہتا ہے، اور یہی توسیع سامراج کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
گلوبل ساؤتھ میں مارکسزم کی کشش کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے پسماندگی اور غربت کو فطری یا ثقافتی مسئلہ نہیں بلکہ تاریخی اور معاشی استحصال کا نتیجہ قرار دیا۔⁴ یہ بیانیہ سامراجی طاقتوں کے لیے خطرناک تھا، کیونکہ اس سے نوآبادیاتی نظام کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں کمزور پڑتی تھیں۔
نوآبادیاتی تجربہ اور عالمی مہم
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں آزادی کی تحریکیں کسی نہ کسی سطح پر مارکسی فکر سے متاثر تھیں۔ چین، ویتنام، کیوبا اور افریقہ کی انقلابی جدوجہد میں مارکسزم ایک ایسے نظریے کے طور پر سامنے آیا جس نے محکوم عوام کو نہ صرف استحصال کی پہچان دی بلکہ مزاحمت کی سمت بھی دکھائی۔
اسی تناظر میں سامراجی طاقتوں نے مارکسزم کو ایک نظری اختلاف کے بجائے ایک سیاسی دشمن کے طور پر دیکھا۔ سرد جنگ کے دوران فوجی بغاوتوں کی حمایت، آمریتوں کی سرپرستی، اور انقلابی حکومتوں کے خلاف پابندیاں اسی عالمی مہم کا حصہ تھیں، جن کا مقصد گلوبل ساؤتھ میں سامراجی مفادات کا تحفظ تھا۔
عالمی سرمایہ داری اور گلوبل ساؤتھ کا مسلسل استحصال
مارکسزم کے خلاف عالمی مہم کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ جدید عالمی سرمایہ داری کے اس ڈھانچے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت گلوبل ساؤتھ خام مال، سستی محنت اور منڈی فراہم کرتا ہے، جبکہ اصل منافع گلوبل نارتھ منتقل ہو جاتا ہے۔
قرضوں کا جال، عالمی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط، نجکاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں دراصل جدید سامراج کی شکلیں ہیں، جو بظاہر ترقی کے نام پر نافذ کی جاتی ہیں مگر عملی طور پر مقامی معیشتوں کو مزید کمزور کر دیتی ہیں۔ مارکسزم ان پالیسیوں کو ترقی نہیں بلکہ استحصال کا تسلسل قرار دیتا ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں اس نظریے کو خطرہ سمجھتی ہیں۔
ثقافتی سامراج اور نظریاتی غلبہ
مارکسزم کے خلاف مہم صرف معاشی یا فوجی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے۔ گلوبل ساؤتھ میں مغربی تعلیمی نصاب، میڈیا اور ثقافتی صنعت کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سرمایہ داری ہی ترقی کا واحد راستہ ہے، جبکہ مارکسزم کو ناکام، غیر ملکی یا پرتشدد نظریہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
انتونیو گرامشی کے مطابق حکمران طبقہ محض طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ نظریاتی غلبے کے ذریعے بھی اپنی بالادستی قائم رکھتا ہے۔¹⁰ اس تناظر میں مارکسزم کے خلاف عالمی مہم دراصل عوامی شعور کو غیر مؤثر بنانے کی ایک منظم کوشش ہے، تاکہ موجودہ نظام پر سوال نہ اٹھائے جا سکیں۔
مزاحمت کے باوجود مارکسزم کی مسلسل اہمیت
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، بیروزگاری، ماحولیاتی بحران اور سیاسی عدم استحکام اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنے وعدوں میں ناکام رہا ہے۔ یہی حالات مارکسزم کو بار بار نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ میں کسان تحریکیں، مزدور جدوجہد، اور سامراج مخالف آوازیں آج بھی مارکسزم سے فکری طاقت حاصل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید عالمی مہم کے باوجود مارکسزم کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔¹¹
اینٹی امپیریلسٹ اور گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مارکسزم کے خلاف عالمی مہم دراصل عالمی سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کا دفاع ہے۔ مارکسزم اس نظام کے تضادات، ناانصافیوں اور استحصالی ڈھانچوں کو بے نقاب کرتا ہے، اسی لیے یہ آج بھی طاقت کے ایوانوں میں خوف کی علامت ہے۔
جب تک دنیا میں طبقاتی فرق، عالمی ناہمواری اور سامراجی غلبہ موجود ہے، مارکسزم نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ محکوم اقوام کے لیے مزاحمت کی ایک مضبوط فکری آواز بنا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
References
Karl Marx, Das Kapital (London: Penguin Classics, 1990).
Samir Amin, Imperialism and Unequal Development (New York: Monthly Review Press, 1977).
Karl Marx, Das Kapital, 3rd ed.
Vladimir Lenin, Imperialism: The Highest Stage of Capitalism (New York: International Publishers, 1939).
Eric Hobsbawm, The Age of Extremes: A History of the World 1914-1991 (London: Michael Joseph, 1994).
Samir Amin, Imperialism and Unequal Development
David Harvey, A Brief History of Neoliberalism (Oxford: Oxford University Press, 2005).
Antonio Gramsci, Prison Notebooks, ed. and trans. Joseph A. Buttigieg (New York: Columbia University Press, 1992).
Share this content:


