ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا ،یورپی یونین اور پاکستان آمنے سامنے

یورپی یونین نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا پر تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان اور ہادی کے خلاف فیصلہ ان بنیادی جمہوری اصولوں کے خلاف ہے جن پر عمل درآمد کا پاکستان نے وعدہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘اندرونی معاملہ’ قرار دیتی ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پولیس نے گزشتہ جمعے کو عدالت میں پیشی کے لیے جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف زیرِ سماعت متنازع پوسٹس کے مقدمے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے تحت 17, 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یورپی یونین کے خارجی امور اور سیکیورٹی پالیسی سے متعلق ترجمان انوئر الانونی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھی کو سوشل میڈیا پوسٹس پر سزا آزادی اظہار اور وکلا کی آزادی کے خلاف ہے۔ یہ صرف جمہوری اصول نہیں بلکہ انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ذمے داریوں کا حصہ بھی ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے یورپی یونین کے بیان کا جواب دیتے ہوئے اسے پاکستان کا ‘اندرونی معاملہ’ قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘یہ سزا ہمارے مقامی قوانین کے مطابق اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے سنائی گئی ہے اور دونوں متعلقہ افراد کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان اگرچہ یورپی یونین کے ساتھ تمام معاملات پر رابطے میں ہے، لیکن وہ اپنے داخلی امور کے حوالے سے ایک واضح فرق رکھتا ہے۔

Share this content: