واشنگٹن کی اسلام آباد نوازی اقلیتی نسلی و مذہبی گروہوں پر جبر کو ہوا دے رہی ہے

سینگے سیرنگ

حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ اور اہم عرب رہنماؤں کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے ملک کے اسٹریٹجک ماحول کو بدل دیا ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کی وہ معاشی اور جغرافیائی تنہائی کم کر دی ہے جو اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ اس سفارتی گرم جوشی نے پاکستان کے لیے نئے مالیاتی راستے کھولے، اس کی بین الاقوامی سفارتی گنجائش میں اضافہ کیا، اور کئی اہم ممالک کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط کیا، جس سے فوج کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک نئی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب امریکی حکومتیں کسی غیر ملکی فوج کو اپنے مفادات کے لیے اہم سمجھتی ہیں تو وہ اکثر اس فوج کے اپنے شہریوں کے خلاف کیے گئے جرائم سے چشم پوشی کرتی ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں، عالمی سطح پر اس کی دوبارہ ابھرتی ہوئی حیثیت نے اسے ملک کے جمہوری اداروں کی خودمختاری کو کچلنے اور شہریوں پر آہنی ہاتھ سے حکمرانی کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ اس تناظر میں یہ توقع کرنا فطری ہے کہ اس کا سب سے زیادہ منفی اثر اقلیتی نسلی گروہوں اور ان کی سیاسی مزاحمت پر پڑے گا۔خصوصاً ان علاقوں میں جنہیں قوم پرست ’مقبوضہ‘ بلوچستان اور پشتون قبائلی خطے قرار دیتے ہیں، جہاں لوگ خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دہائیوں سے پاکستانی فوج نے بلوچ شہریوں کو ’’قانون و نظم‘‘ اور ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے بہت سے بلوچ صرف پاکستان کے ظالمانہ قبضے کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نمایاں خواتین کارکنان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ببیرگ زہری، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ جو ریاستی جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر گرفتار ہوئیں، آج بھی جیل میں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کی من مانی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے، فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، اور ریاست پر تشدد اور علاج سے محرومی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ فوجی پالیسی کے باعث بلوچ کارکنان کے پاس غیر آئینی اقدامات کے خلاف کوئی عدالتی راستہ موجود نہیں، اور وہ مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ دسمبر 2025 میں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت سے بغاوت کے مقدمے میں بری ہونے کے باوجود اب بھی کوئٹہ کی ہُدہ ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں، کیونکہ ان پر دیگر مقدمات ڈال دیے گئے ہیں اور ان کی نظربندی میں MPO اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت بار بار توسیع کی جا رہی ہے۔

جیسے جیسے فوج کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ وہ ان بلوچ اضلاع میں دوبارہ حملے تیز کر سکتی ہے جہاں گزشتہ برسوں میں اس کا کنٹرول کمزور ہوا ہے۔ ماضی کی طرح، ایسے فوجی آپریشن بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی کا باعث بنیں گے۔ عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور خواتین اور بچے موسم، صحت اور تعلیم کی کمی جیسے شدید مسائل کا سامنا کریں گے۔ روزگار اور کاروبار نہ ہونے کے باعث گھریلو آمدنی میں شدید کمی آئے گی، جس سے غربت مزید بڑھے گی۔

اقوامِ متحدہ کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق بلوچوں کے خلاف مظالم میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں جبری اغوا، من مانی حراستیں اور قتل شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف فیصلے دینے سے قاصر ہے اور ’’قومی یکجہتی‘‘ کے نام پر فوجی اہلکاروں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو برداشت کرتی ہے۔

اسی طرح، ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کا کہنا ہے کہ سول ادارے فوج کے تابع ہیں اور دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے نام پر بلوچوں کے خلاف وسیع پیمانے پر ماورائے عدالت کارروائیوں کو بے نقاب نہیں کرتے۔ ان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں 480 بلوچوں کو اغوا کر کے قتل کیا گیا، اور ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں کے کنارے پھینکی ہوئی ملیں۔ اس کے علاوہ، ہزاروں بلوچ اب بھی فوج کی غیر قانونی حراست میں نامعلوم مقامات پر قید ہیں اور انہیں تشدد کا سامنا ہے، جبکہ ان کے پاس کوئی عدالتی راستہ موجود نہیں۔

پشتون علاقوںپاک افغان سرحدی خطے کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) پر پابندی لگا دی ہے، جو ایک نمائندہ پشتون سیاسی تحریک ہے جس نے انتخابات جیت کر پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کی تھی۔ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین 2024 میں طویل حراست اور ضمانت پر رہائی کے بعد اب بھی مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک اور رہنما، سابق رکنِ پارلیمنٹ علی وزیر، اس وقت سکھر جیل میں قید ہیں اور فوجی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار پر ان پر بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

ایک اور اقوامِ متحدہ کی دستاویز کے مطابق کئی پشتونوں پر طالبان کی دہشت گردی کی حمایت یا معاونت کے الزامات لگا کر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہی طالبان جنہیں پاکستان کی فوج نے افغانستان اور بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تربیت اور سرپرستی دی تھی، اب ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام طالبان کے حملوں کا بدلہ معصوم پشتونوں سے لے رہے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ جغرافیہ، ثقافت اور نسلی شناخت میں طالبان سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے سوشل میڈیا کے مطابق انہوں نے 2025 میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر 1758 حملے کیے۔ پاکستانی فوج نے انہیں ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’بھارتی ایجنٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں کو ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی فوج کے لیے یہ معمول کی بات ہے کہ وہ اپنی ہی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی ہر مسلح مزاحمت میں بھارت کا نام گھسیٹ لے۔

پشتونوں کو اسلام آباد، پنجاب اور سندھ جیسے علاقوں میں ان کے لباس اور زبان کی وجہ سے نسلی امتیاز اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہزاروں پشتون صرف اس وجہ سے اظہارِ رائے، تحریر اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے خطرے سے دوچار ہیں کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیںجو ستم ظریفی سے، فوج ہی کے ہاتھوں تراشے گئے اور قومی سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے، مگر 2023 میں فوج کی غیر آئینی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنے پر جیل پہنچا دیے گئے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق فوج نے پیمرا قوانین کے ذریعے میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو میڈیا اداروں کو عمران خان کا نام تک لینے یا چھاپنے سے روکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی دستاویزات اور رپورٹس پاکستان کی قیادت کو یاد دلاتی ہیں کہ پشتون، بلوچ اور دیگر نسلی و مذہبی اقلیتیںجن میں ہندو بھی شامل ہیںاپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج کا حق رکھتی ہیں، اور فوج اس حق کو اغوا، تشدد، قید یا قتل کا جواز نہیں بنا سکتی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ہندو اور مسیحی مذہبی جبر اور جبری تبدیلیٔ مذہب کا سامنا کرتے ہیں۔ 2024 میں ہندوؤں پر 112 حملے رپورٹ ہوئے۔ اسی سال توہینِ مذہب کے 475 مقدمات درج کیے گئے جن میں سے بہت سے ہندو اور مسیحی تھے، جو جیلوں میں ناقابلِ بیان تشدد کا شکار ہیں۔ کئی افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور وہ پھانسی کے منتظر ہیں۔

’’مائنارٹی رائٹس‘‘ اور ’’سینٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ‘‘ کی رپورٹس کے مطابق مسلمان سوشل میڈیا کا استعمال ہندوؤں کے خلاف نفرت بھڑکانے اور ہجوم کو نجی املاک اور مذہبی مندروں پر حملوں کے لیے اکسانے میں کرتے ہیں۔ طویل عرصے تک جان کے خوف سے چھپ کر رہنے کے باعث بہت سے ہندو اپنے کاروبار اور ملازمتیں کھو بیٹھے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مذہبی جبر اور جان لیوا حملوں کے باعث ہزاروں ہندو بھارت ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ بہت سے لوگ اپنی کم عمر بیٹیوں اور بہنوں کو اغوا، زیادتی اور جبری تبدیلیٔ مذہب سے بچانے کے لیے نقل مکانی کر گئے۔ جو لوگ نقل مکانی سے انکار کرتے ہیں اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں جھوٹے توہینِ مذہب کے مقدمات میں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ اور چولستان جیسے علاقوں میں حکمران جماعتوں سے وابستہ بااثر سیاست دان اور مذہبی شخصیات ہندوؤں کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ لینڈ ڈویلپرز قیمتی زمینوں سے ہندوؤں کو بے دخل کرنے کے لیے اسلام پسند ہجوم کو کرائے پر رکھتے ہیں۔ یہ رہنما گرفتاری کی صورت میں حملہ آوروں کو قانونی مدد فراہم کرتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندانوں کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔

جنرل عاصم منیر نے اپریل 2025 میں، پہلگام میں ہندوؤں پر حملے سے محض ایک ہفتہ قبل، مردہ قرار دی گئی دو قومی نظریے کو دوبارہ زندہ کیا، جس نے پاکستانی ہندوؤں کو یہ خوفناک پیغام دیا کہ وہ پاکستانی قوم کا حصہ نہیں اور مسلمانوں سے کمتر ہیں۔ یہ نسلی و مذہبی امتیاز تمام اقلیتوںبشمول مسیحیوں اور احمدیوں—کو مساوی شہریت کے حق سے محروم کرتا ہے اور ان کی جبری بے دخلی اور قتلِ عام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشمیر کے مسئلے پر مسلسل بگڑ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اور منفی اثر پاکستانی ہندوؤں پر پڑ رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی کشمیر میں ہندو اثر و رسوخ کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی جنونیت نے اسے نہ صرف بھارت کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا ہے بلکہ ہندو مذہب کی تذلیل اور دنیا بھر کے ہندوؤں کے خلاف نفرت پھیلانے پر بھی آمادہ کیا ہے۔ حکومت کی ہندو مخالف پالیسیوں نے پاکستانی مسلمانوں کو یہ جواز فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے ہندو ہم وطنوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دے کر ان پر حملے کریں۔

کشمیر میں جہاد کی بحالی نے پاکستانی لشکرِ طیبہ (LeT )کو، رپورٹس کے مطابق، حماس کے ساتھ عملی روابط قائم کرنے اور بھارت کے خلاف دہشت گرد بھیجنے کے قابل بنا دیا ہے۔ ایک حالیہ عوامی خطاب میں، لیٹ کے عسکریت پسند سیف اللہ قصوری جو پہلگام میں ہندوؤں پر حملے میں ملوث تھانے بھارت کی شکست اور ٹوٹ پھوٹ تک ہندوؤں پر مسلسل حملوں کی وکالت کی۔

پاکستانی فوج کی پالیسیوں نے ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ فوج نے کبھی عوام کی فلاح کو ترجیح نہیں دی اور انہیں خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے مہرے اور ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔ جہادی گروہوں کی باہمی لڑائی نے گزشتہ کئی دہائیوں میں لاکھوں پاکستانی مسلمانوں کی جان لی ہے۔ بلوچستان، پشتونستان اور گلگت میں دہشت گرد ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کے قیام نے شیعہ اور صوفی برادریوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ امن کی عدم موجودگی کے باعث تعلیمی ادارے مہینوں بند رہے، جس سے باصلاحیت نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوا۔

جہادی صنعت نے چند فوجی جرنیلوں اور بریگیڈیئرز کو تو مالا مال کیا، مگر اس نے تجارت اور کاروبار کو تباہ کر کے ملک میں غربت اور انتشار کو عام کر دیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی فوج کی مدد اس اذیت اور تباہی کے اس شیطانی چکر کو مزید بڑھا دے گی۔ امریکی منصوبوں کے باوجود، بلوچستان، پشتونستان اور گلگت کے عوام نے پاکستان کی بلیک میلنگ اور دھونس کا خاتمہ کر کے دائمی آزادی کے اپنے خواب کو پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ سنگے سرینگ امریکہ میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹڈیز کے بانی ہیں۔ وہ ایک آزاد تجزیہ کار ہیں۔

٭٭٭

Share this content: