بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق حالیہ بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل نمائندہ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشت گرد پراکسی نے حالیہ دنوں بلوچستان میں 48 بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا۔

ان کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے جواب دیا۔ عاصم افتخار نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ دہشت گردی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے گروہ، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں، افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں اور انھیں ’مشرقی ہمسائے‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 48 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں بی ایل اے کے 145دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ان کے مطابق داعش اب بھی شام اور عراق میں سرگرم ہے لیکن اس کی توجہ افریقہ اور جنوبی ایشیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ آن لائن بھرتی، کرپٹو کرنسی، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان نے کونسل کے اراکین کا بلوچستان حملے پر پریس بیان اور اظہارِ یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے بلوچستان کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔

سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں زور دیا گیا تھا کہ دہشت گردی، چاہے کسی صورت میں ہو، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔

سلامتی کونسل کے مطابق ’ان مذموم دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذمہ دار افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

عاصم افتخار نے بریفنگ میں کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت دیگر گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ بیرونی پشت پناہی کرنے والے دہشت گرد عناصر کا احتساب کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔

Share this content: