پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ آپریشن میں 216 عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’29 جنوری 2026 کو بلوچستان کے ضلع پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب عسکریت پسند عناصر مقامی آبادی کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’اُس مرحلے میں فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں 41 افراد ہلاک ہوئے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’ان کارروائیوں سے نمٹنے کے دوران مزید انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مختلف علاقوں میں کی گئیں تاکہ عسکریت پسندوں کے خفیہ نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 216 عسکریت پسند مارے گئے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ان آپریشنز میں خواتین اور بچوں سمیت 36 عام شہری، 22 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
خیال رہے ان حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔31 جنوری کوکوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 علاقوں میں بی ایل اے نے مربوط حملے کئے ۔جن میں نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، گوادر، پسنی، تمپ اور بلیدہ شامل تھے۔ان حملوں میں بی ایل اے نے سیکورٹی فورسزکے 310 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جن میں پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے شامل ہیں جبکہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے 46 جانباز سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے بلوچستان میں عسکریت پسندی میں ملوث تمام گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دے رکھا ہے۔
پاکستانی حکومت ان گروہوں پر انڈیا کو پشت پناہی کا الزام لگاتی ہے تاہم نئی دہلی ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ’ان عسکریت پسندوں کا منصوبہ بلوچستان میں امن اور ترقی کو متاثر کرنا اور اس کے لیے عام شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جس سے بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کے شواہد ملتے ہیں۔
Share this content:


