صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکہ کے تعلقات میں تائیوان کو ’سب سے اہم مسئلہ‘ قرار دیا ہے۔
چینی صدر نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے میں انھیں محتاط رویہ رکھنےکی ضرورت ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو ’انتہائی اہم‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اختلافات حل کرنے کے راستے تلاش کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس گفتگو کو عمدہ اور جامع قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز ہونے والی گفتگو میں تائیوان، یوکرین میں جنگ، ایران کی صورتحال، امریکہ سے تیل و گیس اور سویابین کی خریداری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے صدور کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ مہینوں میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر سمیت کئی مغربی رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ تعلقات کو نبے سرے استوار کیا جا سکے۔
ٹرمپ خود بھی اپریل میں چین کے دورے پر جائیں گے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بیجنگ امریکہ سے سویابین کی خریداری 12 ملین ٹن سے بڑھا کر 20 ملین ٹن کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’چین کے ساتھ تعلقات اور صدر شی کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات نہایت اچھے ہیں اور ہم دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انھیں اسی طرح قائم رکھنا کتنا ضروری ہے۔‘
دونوں رہنماؤں نے اس سے قبل نومبر میں ٹیلی فون پر تجارت، یوکرین پر روسی حملے، فینٹانائل اور تائیوان سمیت کئی امور پر بات کی تھی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان چین کی سرزمین ہے اور بیجنگ کو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کرنا ہوگا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کو تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔
چین طویل عرصے سے تائیوان کے ساتھ انضمام کا عزم ظاہر کرتا آیا ہے اور اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
گزشتہ دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا اعلان کیا تھا، جس میں جدید راکٹ لانچرز، خودکار توپیں اور مختلف میزائل شامل تھے۔
اس وقت بیجنگ نے کہا تھا کہ یہ اقدام ’تائیوان کی آزادی کی حمایت کی کوشش‘ ہے جو تائیوان میں خطرناک اور پرتشدد صورتحال کو مزید تیز کرے گا‘۔
شی جن پنگ نے بدھ کے روز کہا کہ ’اگر دونوں ممالک برابری، احترام اور باہمی فائدے کو مد نظر رکھ کر آگے بڑھیں تو یقیناً ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کے راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔‘
Share this content:


