راولاکوٹ : کھائی گلہ تھانے میں ایک شہری کے مبینہ ہراسانی کا معاملہ، کارروائی کا مطالبہ

کھائی گلہ/کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر راولاکوٹ کے علاقے گھائی گلہ میں تین فروری 2026 کو کھائی گلہ تھانے میں ایک شہری کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ تھانے کے ایس ایچ او نے شہری کے چھوٹے بھائی کو طلب کیا، جہاں پاکستان کے ایک خفیہ ادارے سے وابستہ دو اہلکار پہلے سے موجود تھے۔

متاثرہ فریق کے مطابق ان اہلکاروں نے یہ پیغام دیا کہ ان کے پاس مذکورہ شہری کا ریکارڈ اور برطانیہ میں رہائش کا پتہ موجود ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ شہری کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج سے متعلق کچھ تحریریں شائع کی گئی ہیں۔

اہلکاروں نے مطالبہ کیا کہ ان تحریروں کو فوری طور پر ڈیلیٹ کر کے ایک وضاحتی بیان سوشل میڈیا پر شائع کیا جائے، جسے اعلیٰ حکام کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیے گئے وضاحتی متن، ایک مبینہ وائس میسج اور متعلقہ فون نمبر کو واقعے کی ثبوت کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ متاثرہ فریق نے الزام لگایا کہ پولیس تھانوں کو غیر آئینی طور پر سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو ہراساں کرنے کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔

متاثرہ فریق کا مؤقف ہے کہ کسی بھی خفیہ ادارے کو سیاسی کارکنوں کی پروفائلنگ یا انہیں مخصوص بیانات دینے پر مجبور کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اور نہ ہی پولیس کسی شہری کے اہلِ خانہ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو شفاف طریقے سے مقدمہ درج کر کے فری اینڈ فیئر ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے۔

اس واقعے پر ڈی آئی جی پونچھ اور ایس ایس پی پونچھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایس ایچ او کھائی گلہ کے خلاف مبینہ غیر قانونی اقدامات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کیا جائے۔ ساتھ ہی خفیہ اداروں سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف بھی انکوائری اور آئندہ ایسی سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو برطانیہ سمیت دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کیا جائے گا، جبکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

یہ بیان عرفان یعقوب، سابق چیئرمین جے کے این ایس ایف برطانیہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔

Share this content: