سی پی جے کا پاکستانی حکام سے صحافی سہراب برکت کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اور بلا مشروط صحافی سہراب برکت کو رہا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ادارہ ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ آزادانہ طور پر خبر رسانی جاری رکھ سکے۔

سہراب برکت کو 26 نومبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان پر رپورٹنگ سے متعلق تین الگ الگ مقدمات درج ہیں۔

21 جنوری کو تیسرے مقدمے میں ان کی ضمانت مسترد کر دی گئی، جس کے بعد بغیر فردِ جرم کے ان کی حراست دو ماہ سے زائد ہو گئی۔

کمیٹی کے مطابق یہ بات ان کے وکیل سعد رسول کی ایک پوسٹ اور عدالتی فیصلے کی کاپی سے ظاہر ہوتی ہے۔

کمیٹی کے مطابق 18 جنوری کو ان کے ادارے ’سیاست‘ نے اعلان کیا کہ وہ اسلام آباد دفتر بند کر رہا ہے، اور اس فیصلے کو سہراب برکت کی گرفتاری سے جوڑا۔

’سہراب برکت کی طویل حراست من مانی اور بلاجواز ہے اور ’سیاست‘ کے اسلام آباد دفتر کی بندش پاکستان میں آزاد صحافت کے سکڑتے ہوئے دائرے کو ظاہر کرتی ہے۔

سی پی جے کے ایشیا پیسفک ڈائریکٹر نے کہا کہ ’پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ فوراً سہراب برکت کو رہا کریں، ’سیاست‘ پر دباؤ ڈالنا بند کریں، اور قانون کا غلط استعمال کر کے تنقیدی رپورٹنگ کو خاموش نہ کریں۔‘

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 5 اگست 2025 کو پہلا مقدمہ درج کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ سہراب برکت نے ریاستی اداروں کے خلاف ’توہین آمیز ریمارکس‘ دیے اور غلط معلومات پھیلائیں۔ مزید دو شکایات 26 اگست اور 5 دسمبر کو درج کی گئیں۔

اگرچہ وہ پہلے دو مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، لاہور ہائی کورٹ نے تیسرے مقدمے میں ان کی درخواست مسترد کر دی کیونکہ عدالت نے انھیں ’مفرور‘ قرار دیا۔ وکیل سعد رسول نے کہا کہ ان کے مؤکل کو پہلی دو شکایات کے بارے میں گرفتاری سے قبل کبھی اطلاع نہیں دی گئی۔

’سیاست‘ کے ایک صحافی نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہراب برکت کی طویل حراست کے باعث ادارے کے لیے ایک فعال نیوز روم قائم رکھنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ انتقامی کارروائی کا خوف موجود ہے۔

چند محدود ملازمین اب بھی گھروں سے کام کر رہے ہیں، لیکن صحافی کے مطابق ذرائع تنظیم سے بات کرنے میں زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ عملے کو یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں تو انھیں بھی سہراب برکت جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ طارڑ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر سید خرم علی نے سی پی جے کے پیغامات اور ای میلز کا کوئی جواب نہیں دیا۔

Share this content: