اسلام آباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن میں دن دہاڑے دہشت گردی کی طرز پر ایک انتہائی سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا۔
اغواء کار نوجوانوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں نیم مردہ حالت میں ریور گارڈن کے قریب ویران علاقے میں پھینک کر فرار ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان جدید اسلحے سے لیس تھے اور اغواء کے دوران علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ نوجوانوں کو تشدد کے دوران جان سے مارنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور نیم برہنہ کرکےان کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں جس سے واقعے کی نوعیت مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔
واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب اسلام آباد کو ہائی سیکیورٹی زون قرار دیا جاتا ہے، جس پر شہریوں نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واقعہ کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا جاسکتاہے کہ کس طرح مسلح اغواکار دن دہاڑے اغواکاری اور بہیمانہ تشدد کی کارروائی سرانجام دیتے ہیں جس سے صاف پتہ چلتا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے ہے جو کہیں بھی دیدہ دلیری سے اس طرح کی کارروائی سرانجام دیتے ہیں اور ان تک پہنچنے کے لئے انتظامیہ اور حکومت کے پر جلنے لگتے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دارالحکومت میں دن دہاڑے اس نوعیت کے واقعات ممکن ہیں تو عام شہری خود کو کہاں محفوظ سمجھیں؟
متاثرہ نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک مگر خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع پر پولیس نے موقع پہ آکر چھان بین شروع کر دی ۔ تاہم تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، اغواء اور تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور خصوصاً جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ ریاستی رِٹ کے لیے بھی کھلا چیلنج ہیں، جن پر خاموشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
Share this content:


