ہنزہ/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں عوامی ایکشن کمیٹی نے لینڈ ریفارمز ایکٹ جیسے عوام دشمن قوانین کے نفاذ کے خلاف گرینڈ جرگہ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چپورسن کے زلزلہ متاترین کے لیے امدادی اقدامات اور چپورسن کے دیگر علاقوں کو بھی آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آج مورخہ 8 فروری، بروز اتوار، علی آباد ہنزہ کے ایک مقامی ہوٹل میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ کی صدارت میں عوامی ایکشن کمیٹی ہنزہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ضلع ہنزہ میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے لینڈ ریفارمز ایکٹ کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر عوامی ایکشن کمیٹی ہنزہ کے اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں لینڈ ریفارمز ایکٹ جیسے متنازعہ اور عوام دشمن قوانین کے نفاذ کے لیے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے جانے والے غیر جمہوری اقدامات کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں علی آباد ہنزہ میں فوری طور پر گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس سلسلے میں عوامی ایکشن کمیٹی ہنزہ کی عبوری کابینہ بھی تشکیل دی گئی، جس میں شوکت علی ایڈووکیٹ کو صدر، کریم داد کو جنرل سیکرٹری اور نورالمبین کو انفارمیشن سیکرٹری منتخب کیا گیا۔
اجلاس میں چپورسن میں حالیہ زلزلے کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں اور نقصانات پر حکومت گلگت بلتستان کی مجرمانہ خاموشی اور بروقت اقدامات نہ اٹھانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا نیز عوامی ایکشن کمیٹی ہنزہ کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ متاثرینِ چپورسن کو فوری طور پر خیمے، ادویات، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں اور چپورسن کے تمام علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔
Share this content:


