گلگت/ کاشگل نیوز
قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین انجینئر سرفراز نگری نے گلگت بلتستان پولیس کے 150 سے زائد نوجوانوں کی برطرفی کو نوجوانوں کا معاشی قتل قرار دے دیا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن احتجاج اور آواز بلند کرنے پر نوجوانوں کو ملازمت سے فارغ کرنا سراسر ناانصافی اور جبر ہے۔ انجینئر سرفراز نگری کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ پورے خطے میں بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔
انہوں نے غیر مقامی آئی جی پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتقامی کارروائیوں کے بجائے ہوش کے ناخن لیے جائیں اور تمام برطرف نوجوانوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے نوجوان پرامن اور باوقار جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، مگر ان کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔
چیئرمین کے ایس او نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو برطرف کیے گئے نوجوانوں کے ہمراہ پورے گلگت بلتستان کو جام کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
Share this content:


