گلگت بلتستان : جوتل میں بجلی کے مسائل پر تاریخی احتجاج، کے کے ایچ بند کرنے کی دھمکی

گلگت / کاشگل نیوز

پاکستان کے زیرا نتظام گلگت بلتستان کے علاقے جوتل میں آج بروز جمعہ 6 فروری کو نمازِ جمعہ کے بعد کے کے ایچ جوتل پر جوتل یوتھ اور عمائدینِ جوتل کے زیرِ اہتمام ایک بھرپور اور تاریخی احتجاجی اجتماع منعقد ہوا، جس میں جوتل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

احتجاج کا مقصد عوامی حقوق کا تحفظ، سابقہ معاہدات کی پاسداری اور منصفانہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

احتجاجی اجتماع میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں محکمۂ برقیات کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں متنبہ کیا گیا کہ سابقہ معاہدات کے مطابق جوتل کو فوری طور پر فری لوڈشیڈنگ زون قرار دیا جائے، بصورتِ دیگر عوامی بے چینی اور ردِعمل کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ 2007ء کے معاہدے کے تحت جوتل کے لیے بجلی کے بل پانچ سو روپے مقرر کیے جائیں، جبکہ اس حد سے زائد کسی بھی قسم کے بل کو عوام نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر جوتل کو فری لوڈشیڈنگ زون قرار نہ دیا گیا تو عوام نلتر (18 میگاواٹ) اور (16 میگاواٹ) منصوبوں سے متعلق بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے حوالے سے سخت عوامی ردِعمل پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری محکمۂ برقیات پر ہوگی۔

احتجاجی اجتماع میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حلقہ نمبر 3 میں جوتل پر لوڈشیڈنگ کرکے چھلمش داس اور گلگت کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

عوام نے مطالبہ کیا کہ جوتل پر لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور متعلقہ دیہات کو نلتر سے بجلی فراہم کی جائے۔

قرارداد میں محکمۂ برقیات کی مجوزہ نجکاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومتِ گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا گیا کہ محکمۂ برقیات کو حکومتی تحویل میں رکھتے ہوئے شفاف، بہتر اور عوام دوست انداز میں چلایا جائے۔ اس کے علاوہ تین ٹرانسمیشن لائنز اور ان سے متاثرہ زمینوں کے مالکان کو فوری اور منصفانہ معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اجتماع کے اختتام پر حکومتِ پاکستان اور محکمۂ برقیات کو آخری بار متنبہ کیا گیا کہ اگر اگلے جمعہ تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جمعہ کے بعد کے کے ایچ کو مکمل طور پر بند کرکے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیا جائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد عوامِ جوتل کے اجتماعی شعور، اتحاد اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہے، اور عوام پرامن مگر بھرپور جدوجہد کے ذریعے اپنے جائز مطالبات منوانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Share this content: