عالمی یومِ ریڈیو: بدلتے دور میں بھی ریڈیو کی بازگشت برقرار

ہر سال 13 فروری کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت عالمی یومِ ریڈیو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ریڈیو کی اہمیت کو اجاگر کرنا، بین الثقافتی اور بین اللسانی روابط کو فروغ دینا اور عوام میں اس کے مثبت استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے۔

یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے 25 اکتوبر سے 10 نومبر 2011ء کو پیرس میں منعقدہ اپنے 36ویں اجلاس میں قرارداد نمبر 63 / C 36 کے ذریعے ہر سال 13 فروری کو عالمی یومِ ریڈیو منانے کی منظوری دی، جس کا باقاعدہ آغاز 2012ء سے ہوا۔

دنیا بھر میں ریڈیو آج بھی ایک مؤثر ذریعہ ابلاغ سمجھا جاتا ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق دنیا میں تقریباً 60 ہزار سے زائد ایف ایم اسٹیشنز، 15 ہزار کے قریب اے ایم/میڈیم ویو اسٹیشنز، 200 سے 300 شارٹ ویو اسٹیشنز اور ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد آن لائن ریڈیو اسٹریمز فعال ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل انقلاب کے باوجود ریڈیو کی رسائی اور اثر پذیری برقرار ہے۔

پاکستان زیر انتظام کشمیر میں ریڈیو کا سنہرا دور

پاکستان زیر انتظام کشمیر میں ریڈیو کئی دہائیوں تک معلومات اور خبروں تک رسائی کا واحد ذریعہ رہا۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں ریڈیو موجود نہ ہو۔ صبح کی خبروں سے لے کر شام کے حالات حاضرہ پروگراموں تک، ریڈیو گھروں، دکانوں اور بیٹھکوں میں گونجتا تھا۔

بی بی سی ورلڈ سروس اور وائس آف امریکہ جیسے عالمی نشریاتی ادارے یہاں کے مقبول ترین نیٹ ورکس میں شامل رہے، جنہیں بڑی دلچسپی سے سنا جاتا تھا۔ سیاسی حالات، علاقائی خبروں اور عالمی منظرنامے سے آگاہی کے لیے ریڈیو پر بھرپور انحصار کیا جاتا تھا۔

ڈیجیٹل دور اور بدلتی ترجیحات

وقت نے کروٹ لی تو انٹرنیٹ اور بالخصوص اسمارٹ فونز کی آمد نے دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کی صورت بدل دی۔ جس طرح گھڑی، کیلکولیٹر اور دیگر آلات موبائل فون میں سمٹ گئے، اسی طرح ریڈیو بھی بڑی حد تک اسمارٹ ڈیوائسز کا حصہ بن گیا۔

پاکستان زیر انتظام کشمیر کی نئی نسل، خصوصاً جنریشن زی، اب پوڈکاسٹس، یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ترجیح دیتی ہے۔ روایتی ریڈیو سیٹ اب کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود خطے میں آج بھی ایسے عمر رسیدہ شہری موجود ہیں جو باقاعدگی سے ریڈیو سنتے ہیں۔ ان کے لیے ریڈیو محض ایک آلہ نہیں بلکہ ماضی کی یادوں، خبروں کی سادگی اور آوازوں کے اعتماد کا استعارہ ہے۔

ریڈیو: ماضی کی نشانی یا مستقبل کا ذریعہ؟

اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے ابلاغ کے انداز بدل دیے ہیں، لیکن ریڈیو آج بھی قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور دور دراز علاقوں میں معلومات کی ترسیل کا سستا اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ عالمی یومِ ریڈیو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آواز کی یہ دنیا اب بھی زندہ ہے—شاید شکل بدل چکی ہو، مگر اہمیت برقرار ہے۔

ریڈیو کی مدھم ہوتی آواز آج بھی بہت سے گھروں میں گونجتی ہے، اور ماضی کی بازگشت سننے والوں کے دلوں میں تازہ کر دیتی ہے۔

Share this content: