بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے 7 اگست 2012 کو مبینہ طور پر فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے گل محمد مری کی والدہ اماں حوری طویل جدوجہد کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ وہ گزشتہ 14 برس سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے مسلسل احتجاج اور دھرنوں میں شریک رہیں۔
تفصیلات کے مطابق گل محمد مری ولد بہار خان مری کو 2012 میں مبینہ طور پر حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اماں حوری نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے بلوچستان سے لے کر اسلام آباد تک مسلسل آواز بلند کی اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں میں حصہ لیا۔
اماں حوری نے اسلام آباد سمیت کئی مقامات پر کیمپ قائم کیے اور ہر فورم پر اپنے بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ وہ عمر اور بیماری کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے تھیں اور آخری سانس تک انصاف کی طلبگار رہیں۔
اس موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ اماں حوری مزاحمت کی علامت تھیں۔ تنظیم کے مطابق وہ 2012 میں اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی کے بعد کبھی نہیں رکیں اور بیوگی کے تیس برس سے زائد عرصے اور مسلسل دکھ کے باوجود سڑکوں، کیمپوں اور احتجاجوں میں شریک رہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اماں حوری نے لاٹھی چارج، دھمکیوں، بھوک اور تھکن سب کچھ برداشت کیا لیکن اپنے بیٹے کی تلاش سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ 2023 میں بلوچ راجی مچّی میں تشدد کے بعد بھی وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ احتجاجی کیمپ میں بیٹھی رہیں اور جلسے کے لیے دالبندین تک سفر کیا۔
تنظیم کے مطابق وہ ہر دعا میں اپنے بیٹے کا نام لیتی رہیں اور 2025 میں بھی اسلام آباد پہنچ کر انصاف کا مطالبہ کرتی رہیں، تاہم وہ اپنے بیٹے کو آخری بار دیکھے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اماں حوری کی جدوجہد ہر اُس ماں میں زندہ رہے گی جو اپنے لاپتہ عزیز کی تصویر اٹھائے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری اور محفوظ طور پر رہا کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کا طویل اور دردناک انتظار ختم ہو سکے۔
Share this content:


