غزہ فورس کے لیے پانچ ممالک کا فوجی وعدہ، برطانیہ کا ایران حملوں پر امریکی اڈے دینے سے انکار

غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی سطح پر نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں اعلان کیا کہ نو ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ طور پر 7 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان ممالک میں قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

اسی اجلاس میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ غزہ امن بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کن منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کے مطابق انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ مصر اور اردن پولیس کی تربیت فراہم کریں گے۔

دوسری جانب ایران کے معاملے پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات نمایاں ہیں۔ برطانوی حکومت نے امریکہ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے رائل ایئر فورس کے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ماضی میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیوں کے لیے گلوسیسٹر شائر میں واقع آر اے ایف فیئرفورڈ اور بحرِ ہند میں برطانوی سمندر پار علاقے ڈیگو گارشیا کا استعمال کیا تھا۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک سیاسی عمل جاری ہے اور برطانیہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہییں اور خطے کی سلامتی برطانیہ کی اولین ترجیح ہے۔

اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دنیا جلد جان لے گی کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ رہا ہے یا فوجی کارروائی کی طرف جا رہا ہے۔

ایک طرف عالمی برادری غزہ کی تعمیر نو اور امن قائم کرنے کے لیے اربوں ڈالر اور فوجی وسائل فراہم کرنے کا وعدہ کر رہی ہے، تو دوسری طرف ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات خطے کی کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں مستقبل کے امن اور سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

Share this content: