ہیومن رائٹس کمیشن کا پنجاب میں سی سی ڈی کے جعلی مقابلوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پنجاب میں سی سی ڈی مقابلوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اپنے بیان میں ایچ آر سی پی نے کہا کہ پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں پر سنگین خدشات ہیں، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے جعلی انکاؤنٹر کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، 8 ماہ میں سی سی ڈی 670 مقابلے کر چکا ہے جس میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سی سی ڈی کے مقابلے انفرادی نہیں ادارہ جاتی طریقہ کار لگتے ہیں، سی سی ڈی پر عدالتی اور مجسٹریٹی انکوائریاں نہ ہونا تشویش ناک ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ایف آئی اے، نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے ساتھ مل کر سی سی ڈی کے مقابلوں پرتحقیقات کرے۔

یاد رہے کہ بلوچستان ،خیبر پختونخوااور سندھ میں کائونٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی) جعلی کارروائیوں میں پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے سنگین وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں ۔

گذشتہ روزسی ٹی ڈی نے کراچی ،بارکھان اور کوئٹہ میں 18 افراد کو دہشت گردظاہر کے مقابلوں میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے حوالے سے فیملی کی جانب سے یہ موقف اختیار کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے جبری لاپتہ تھے ۔

اسی طرح کراچی میں 4 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جنہیں پہلے جبری لاپتہ کیا گیا پھر حکام نے انہیں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ان کی گرفتاری ظاہر کی اور عدالت میں پیش کیا جبکہ گذشتہ روزانہیں ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا جس کے بعد ان کی فیملیزسراپا احتجاج ہیں اور ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور قتل کے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Share this content: