بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمٰن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

بنگلہ دیش کے نئے وزیرِ اعظم طارق رحمٰن نے منگل کے روز عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان سے حلف لیا۔ کابینی وزراء اور نئی حکومت کے دیگر اراکین نے بھی حلف اٹھایا۔

طارق رحمٰن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ یہ انتخابات 2024 کی بڑے پیمانے کی عوامی شورش کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے اور انہیں ملک کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

وزیرِ اعظم طارق رحمان سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں۔ وہ 35 برسوں میں بنگلہ دیش کے پہلے مرد وزیرِ اعظم ہیں۔ 1991 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد سے یا تو ان کی والدہ یا ان کی سیاسی حریف شیخ حسینہ وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے 350 رکنی پارلیمان میں 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد نے 77 نشستیں حاصل کیں اور اب وہ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرے گا۔

بنگلہ دیش میں ووٹرز براہِ راست 300 ارکانِ پارلیمان کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور کامیاب جماعتوں میں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔

60 سالہ طارق رحمان دسمبر میں 17 برس کی خود ساختہ جلاوطنی (لندن میں قیام) کے بعد، اپنی والدہ کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ قبل ملک واپس آئے۔ انہوں نے 17 کروڑ آبادی والے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Share this content: