صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے آگاہ کیا ہے کہ امریکی فوج سنیچر تک ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے تاہم (صدر ٹرمپ کی جانب سے) حملے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ مُمکنہ کارروائی کے حتمی وقت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ سنیچر کے روز سے آگے بھی جا سکتا ہے۔
حکام نے سی بی ایس کو مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جبکہ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر مسلسل مشاورت جاری ہے، جہاں اس اقدام سے منسلک خطرات، ممکنہ ردعمل اور حملے کے سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون آئندہ تین دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے کچھ اہلکاروں کو عارضی طور پر یورپ یا امریکہ منتقل کر رہا ہے تاکہ اگر کارروائی کی جاتی ہے تو ایسے میں ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام معمول کی تیاری کا حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ حملہ فوری طور پر ہونے والا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں، لیکن صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہے۔‘
انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا کارروائی اسرائیل کے ساتھ مل کر کی جائے گی یا نہیں۔
لیویٹ نے مزید کہا کہ ’جون میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک کامیاب آپریشن کیا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ اور تعاون کرے۔‘
ذرائع کے مطابق بدھ کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایران پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تمام امریکی فوجی دستے مارچ کے وسط تک خطے میں اپنی جگہ پر موجود ہوں گے۔
دوسری جانب ایک سینیئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اگلے چند ماہ کے دوران شام میں موجود اپنی فوج کو بڑی حد تک واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ شامی حکومت نے اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اب وہاں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔
انسداد دہشت گردی مہم کے تحت شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی فوجی سنہ 2015 سے شام میں موجود ہیں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔
Share this content:


