پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے علاقے چڑہوئی میں ایک اور تیندوا مردہ حالت میں برآمد ہوا ہے، جس کے بعد رواں ماہ خطے میں ہلاک ہونے والے تیندوؤں کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔ مسلسل ہلاکتوں نے ماہرین اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس نایاب نسل کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق چڑہوئی میں ایک شہری کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ٹیم نے تیندوے کی لاش تحویل میں لے لی اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق رواں ماہ ہلاک ہونے والے چار تیندوؤں میں سے دو کو گولی لگنے کے شواہد ملے ہیں، ایک تیندوا ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا، جبکہ ایک کی میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، انسانی آبادی کا جنگلی علاقوں کی جانب پھیلاؤ اور قدرتی خوراک کی کمی جنگلی جانوروں کو آبادیوں کی طرف آنے پر مجبور کر رہی ہے، جس کے باعث انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب میڈیا کی جانب سے محکمہ جنگلی حیات سے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی کشمیر میں تیندوؤں کی ہلاکتوں کی مجموعی رپورٹ طلب کی گئی ہے، تاہم تاحال محکمہ کی جانب سے کوئی جامع اعداد و شمار فراہم نہیں کیے جا سکے۔
شہریوں، سماجی اور ماحولیاتی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے اور انسانی و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کم کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے اور نایاب انواع کو محفوظ بنایا جا سکے۔
Share this content:


