پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ کی سست روی کوئی نئی بات نہیں، تاہم 28 ستمبر 2025 کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل کر دی تھی۔
چار اکتوبر کو سروس بحال تو کر دی گئی، مگر صارفین کے مطابق انٹرنیٹ کی رفتار معمول سے بھی کہیں زیادہ کم ہے۔
پاکستان میں جہاں 5G سروس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، وہیں کشمیر میں 4G انٹرنیٹ بھی شدید سست روی کا شکار ہے، جس پر شہریوں نے سخت تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ٹیلی کمیونیکیشن اور براڈ بینڈ سروسز کے فروغ کے لیے اسپیکٹرم کی مد میں 9 ارب روپے جبکہ یونیورسل سروس فنڈ (USF) کی مد میں 10 ارب روپے کشمیر کی حکومت کو فراہم کیے تھے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ رقم جس مقصد کے لیے دی گئی تھی، اس پر خرچ کرنے کے بجائے سوشل پروٹیکشن فنڈ میں منتقل کر دی گئی، جو دو سال گزرنے کے باوجود تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
وزیراعظم نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ خطے میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے فائبر بچھانے کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔تاہم جب اس منصوبے کی تکمیل کے بارے میں وزیراعظم سیکریٹریٹ سے پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا:
“ہم نے اس منصوبے کی بنیاد رکھ دی ہے، مگر تین ماہ میں اسے مکمل کرنا مشکل ہے۔ آنے والی حکومت اسے مکمل کرے گی۔”
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر فیصل جمیل نے حکومت کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ:
“اس سے قبل بھی ایس سی او کی جانب سے فائبر بچھائی گئی تھی، مگر اس کے باوجود انٹرنیٹ سروس مسلسل سست روی کا شکار ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ جب تک فنڈز کے شفاف استعمال اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، محض اعلانات سے صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
Share this content:


