پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے مجموعی طور پر 14 مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔
پہلا واقعہ ضلع بارکھان کے علاقے عیشانی کے قریب ڈھولا ندی میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے کرش پلانٹ پر کام کرنے والے تین مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق ضلع موسیٰ خیل سے ہے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسی علاقے میں مسلح افراد نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرکے تین اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسرا واقعہ ضلع خضدار کے علاقے مولہ میں پیش آیا، جہاں ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے 11 مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔
خضدار پولیس کے اہلکار یوسف بلوچ کے مطابق واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اغوا ہونے والے مزدوروں میں چھ کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ ورلڈ بینک کے ایک منصوبے کے تحت نالیوں کو پختہ کرنے کے کام میں مصروف تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد مسلح افراد مولہ ٹاؤن بھی گئے اور وہاں کے پولیس تھانے سے اسلحہ لے جانے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ کچھ دیر علاقے میں رہنے کے بعد وہ واپس چلے گئے۔
Share this content:


