گذشتہ رات افغانستان کے ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں ایک گھر پر پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کردی گئی ہے۔
بی بی سی فارسی کی یما بارز نے افغانستان سے رپورٹ کیا ہے کہ اس خاندان کے مزید پانچ افراد کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی پشتو کے مطابق گذشتہ رات بہسود کے علاوہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل میں بھی فضائی حملے کیے گئے، اسی طرح پکتیکا کے برمل اور ارگون میں بھی حملے ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
دوسری جانب افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملوں کے بارے میں میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ”بھارت پاکستان کی جانب سے افغان علاقے پر کیے گئے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتی ہےجس کے نتیجے میں رمضان کے مقدس مہینے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی اموات ہوئے ۔
بیان میں مزید کہا ہے کہ ’یہ پاکستان کی طرف سے اپنی اندرونی ناکامیوں کو بیرونی پلیٹ فارم پر پیش کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ہندوستان افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔“
Share this content:


