ایران میں ایک مرتبہ پھر طلبہ سڑکوں پرنکل آئے ، احتجاجی مظاہر ے شروع

ایران کی کئی یونیورسٹیوں میں طلبہ نے ایک بار پھر حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جو کہ گذشتہ مہینے حکام کی جانب سے کیے گئے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد اس پیمانے پر ہونے والے پہلے بڑے مظاہرے ہیں۔

بی بی سی نے سنیچر کے روز دارالحکومت تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں مارچ کرتے ہوئے مظاہرین کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔ بعد ازاں مظاہرین اور حکومتی حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھی گئیں۔

اس کے علاوہ تہران کی ایک اور یونیورسٹی میں دھرنا دیا گیا، جبکہ شہر کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ریلی کے اہتمام کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔

خیال رہے یہ طلبہ جنوری میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران مارے جانے والے ہزاروں افراد کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔

بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنیچر کو نئے سیمسٹر کے آغاز پر سینکڑوں مظاہرین شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں پُرامن مارچ کر رہے ہیں۔

جمع ہونے والے طلبہ نے ’آمر مردہ باد‘ اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگائے۔

ویڈیو کے آغاز میں ایک الگ ہجوم کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو کہ حکومت کا حامی تھا۔ اس دورن دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس کے علاوہ تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں بھی پُرامن دھرنے کی تصدیق شدہ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

بی بی سی نے تہران کی ایک اور درسگاہ، امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کی بھی ایک فوٹیج کی تصدیق کی ہے، جس میں حکومت کے خلاف نعرے بازی دیکھی جا سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر مشہد میں بھی مقامی طلبہ نے ’آزادی، آزادی‘ اور ’اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔

Share this content: