ایران میں خامنہ ای کے رہائش گاہ پر مبینہ حملے کا دعویٰ ، حکام کی تردید

ایران میں مجاہدینِ خلق (ایم ای کے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے 250 اہلکاروں نے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی رہائش گاہ اور دفتر پر حملہ کیا۔

تنظیم کے مطابق کارروائی صبح کی اذان سے شروع ہو کر دوپہر تک جاری رہی، جس میں 150 اہلکار بحفاظت واپس لوٹ گئے جبکہ 100 ہلاک یا گرفتار ہوئے۔

تاہم ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

مہر نیوز ایجنسی نے اسے "مزاحیہ ردِعمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد پلاسٹک کے پائپ سے شور پیدا کرنے کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشایش نے کہا کہ ایسی کارروائی بعید از قیاس ہے، مگر تنظیم ملک کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاستور کے علاقے میں سخت سکیورٹی نافذ ہے، جہاں رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ، صدارتی عمارت اور دیگر اہم ادارے واقع ہیں۔ بعض رپورٹس میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں کا ذکر ہوا، مگر کوئی تصاویر یا ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔

سوشل میڈیا پر کچھ دیر کے لیے ’پاستور‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔ روزنامہ ہمشہری کے مطابق علاقے میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت لازمی ہے، جبکہ بعض ویب سائٹس نے سکولوں کی بندش کی اطلاع دی جسے وزارتِ تعلیم نے تردید کر دیا۔

Share this content: