پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جہاں اس وقت ریاست اپنے بیانے کے فروغ کے لیے مختلف ہتھکنڈے آزما رہی ہے وہیں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مہم بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جس کے تحت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو زیر کرنے کے لیے پبلک میں ایک بیانیہ بنانے کی کوشش جاری ہے۔
ریاست زیر سایہ چلنے والے ویب چینلز ہوں یا نیشنل میڈیا وہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف مختلف طرح کے پروپیگنڈے جاری ہیں۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا اس قبل بھی ریاست اپنے بیانے کے فروغ اور عوامی حقوق تحریک کو ختم کرنے کے لیےکئی تجربات کر چکی ہے جس کی مثال مئی2024 ہے جب JAAC کا لانگ مارچ مظفرآباد کی جانب رواں دواں تھا تو ریاستی بیانے کے تحت نیشنل چینلزز پر یہ خبریں شیئر کی جا رہی تھیں کہ تمام تر مطالبات حل ہو چکی ہیں اور احتجاج اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
مئی 2024 جب JAAC کے مطالابت بڑھے تو مختلف طرز کے احتجاج دکھائی دیے ۔ احتجاجوں کو کوور کرنے کی بجائے ان احتجاجوں کو بھارت کی مداخلت قرار دیا جاتا رہا۔ اب جب JAAC جب ایک نئی کال دینے جا رہی ہے تو اس کے خلاف ایک بار پھر ریاستی پشت پناہی میں پلنے والے چینلزز ایک نئے پروپیگنڈے کا آغاذ کر چکے ہیں۔
Share this content:


