ہم جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کے حق کو جائز سمجھتے ہیں،ایران

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کا حق ’جائز اور یقینی‘ سمجھتے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمان نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں دفاعی نوعیت کے حملے کیے۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں، ان حملوں کا براہِ راست ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ امریکی فوج نے ’خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ مہم جوئی اور جارحانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے خلیج فارس کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئی‘، جس کے بعد پاسداران انقلاب کے دفاعی یونٹس نے ’محتاط انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ایک MQ-9 ڈرون کی نشاندہی کر کے اسے مار گرایا۔‘

پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اس نے ایک RQ4 ڈرون اور ایک F-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کی، ’جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو کر علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔‘ پاسداران نے ان حملوں کے وقت اور مقام کی وضاحت نہیں کی۔

اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں نئے حملے کیے، جن میں ایرانی میزائل سائٹس اور اُن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو ’بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘

امریکی سینٹرل کمان کے بیان کے مطابق یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’ایرانی فورسز کی جانب سے درپیش خطرات سے امریکی افواج کا تحفظ‘ تھا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے گذشتہ رات اطلاع دی کہ بندر عباس اور شہر کے ہوائی اڈے کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی۔

تیل کی قیمتیں، جو ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کی امیدوں کے بعد نمایاں حد تک کم ہو گئی تھیں، اب دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔

تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر نئے حملوں کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

Share this content: