ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا،امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کچھ دیر قبل کانگریس کے سامنے اپنا سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب دیا۔

ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کا سب سے طویل ریکارڈ قائم کیا جو تقریباً ایک گھنٹہ اور 50 منٹ طویل تھا، اور اس طرح انھوں نے بل کلنٹن کے 2000 میں دیے گئے آخری خطاب کا ریکارڈ توڑ دیا۔

ٹرمپ نے بار بار اپنے اقتصادی ایجنڈا پر زور دیا اور کہا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس میں واپس آنے کے پہلے سال میں ’تاریخی تبدیلی‘ کا مشاہدہ کیا۔

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی بات کی۔ انھوں نے گذشتہ سال امریکہ کی ایران میں کارروائی، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کہا جاتا ہے، کا حوالہ دیا، جو ملک کی جوہری تنصیبات کو ہدف بنا رہی تھی۔

انھوں نے کہا: ’مڈ نائٹ ہیمر کے بعد انھیں خبردار کیا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار بنانے کے پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں، مگر پھر بھی وہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت دوبارہ اپنے جوہری عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایران مزید امریکی حملوں سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک اس بات کا پابند نہیں ہوا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا: ’میری ترجیح یہ ہے کہ اس مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے لیکن ایک بات یقینی ہے۔ میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد سرپرست، جو کہ وہ بلاشبہ ہیں، کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں ان کا سخت موقف ان کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں امریکی فوج کو زمین پر سب سے طاقتور بنانے کی کوشش شامل رہی ہے۔

Share this content: