کوئٹہ ٹرین دھماکا: پاکستان بھر میں ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پر کمانڈوز کی تعیناتی کا فیصلہ

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کولے جانے والی شٹل ٹرین پر حملے کے بعد ریلوے پولیس نے پاکستان بھر میں سیکورٹی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔

ترجمان ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ کوئٹہ بم دھماکے کے تناظر میں تمام ریلوے پولیس اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ریلوے حدود میں واقع مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کی فول پروف سیکورٹی یقینی بنائی جائے۔

اسی طرح حساس مذہبی مقامات اور عید اجتماعات پر اضافی ریلوے پولیس نفری تعینات کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے ٹریک، مسافر و مال گاڑیوں، اہم تنصیبات، ریلوے یارڈز، اسٹورز، ورکشاپس اور دفاتر کی سیکورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنز، پلوں، ٹریکس اور حساس مقامات پر باقاعدہ سرچ، سویپ اور گشت کا انعقاد کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنز پر تربیت یافتہ اور مسلح کمانڈوز تعینات کیے جائیں۔

ترجمان کے مطابق ریلوے انتظامیہ، ضلعی پولیس، انٹیلی جنس اداروں، ریسکیو سروسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اس دوران مشکوک افراد، سامان، گاڑیوں اور لاوارث اشیاء کی سخت چیکنگ اور نگرانی کی جائے گی۔ سی سی ٹی وی کیمروں، انٹیلی جنس بیسڈ نگرانی اور داخلی و خارجی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ریلوے حکام نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام سیکورٹی ڈیویژنوں، نفری کی تعیناتی اور ذمہ داریوں پر مشتمل جامع سیکورٹی پلان تیار کر کے فوری متعلقہ دفتر کو ارسال کیا جائے۔ یہ اقدامات کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ ریلوے نیٹ ورک کو محفوظ بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر شٹل ٹرین جوپاکستانی فوج کے اہلکاروں کو کینٹ سے ریلوے اسٹیشن لے جارہی تھی کوفدائی حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیاتھا جس میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اس کے مجید بریگیڈ یونٹ کی فدائی بلال شاہوانی نے سرانجام دیا ہے جس میں 82 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ سرکاری سطح پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے اور 30 سے زائد زخمی ہیں۔

Share this content: