افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور علاقائی اثرات،رپورٹ

روسی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کی موجودہ عسکری و سیاسی صورتِ حال پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں شدت پسند گروہوں کی تعداد، سرگرمیوں اور ان کے ممکنہ علاقائی اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کی صورتحال

افغانستان میں حالات بدستور پیچیدہ اور نازک ہیں۔ روسی اندازوں کے مطابق ملک میں 20,000 سے 23,000 جنگجو سرگرم ہیں۔ ان میں نصف سے زیادہ غیر ملکی شہری ہیں، جو افغانستان سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اہم گروہ اور ان کی تعداد

  • داعش خراسان (ISKP): تقریباً 3,000 جنگجو
  • تحریکِ طالبان پاکستان (TTP): 5,000 سے 7,000 جنگجو
  • القاعدہ: 400 سے 1,500 ارکان
  • ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ: 300 سے 1,200 جنگجو
  • اسلامک موومنٹ آف ازبکستان / ترکستان اسلامک پارٹی: 150 سے 500 جنگجو
  • جماعت انصاراللہ: 150 سے 250 جنگجو

خطرے کا تجزیہ

رپورٹ کے مطابق داعش خراسان واحد گروہ ہے جو براہِ راست افغان حکام کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اس کے پاس کیمپ، اڈے اور خفیہ سیل موجود ہیں، مگر وہ بڑے علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دیگر گروہوں کی موجودگی افغانستان اور خطے کے لیے غیر مستحکم کرنے والا عنصر ہے، جس کے عالمی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سفارتی مؤقف

روس نے زور دیا کہ افغانستان کے سیکیورٹی اور سماجی و معاشی چیلنجز پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔ یہ رپورٹ روس کے جاری تجزیاتی اور سفارتی رابطوں کا حصہ ہے۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

علاقائی تجزیہ

افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے:

پاکستان: تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کی سرگرمیاں براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی سے جڑی ہیں، اور افغانستان میں ان کی مضبوط موجودگی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

  • وسطی ایشیا: ازبکستان اور تاجکستان سے تعلق رکھنے والے گروہ (اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، جماعت انصاراللہ) وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں، جو روس کے سیکیورٹی خدشات کو بڑھاتے ہیں۔
  • چین: ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی موجودگی چین کے سنکیانگ خطے کے لیے حساس معاملہ ہے، اور بیجنگ اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
  • عالمی سطح: داعش خراسان کی سرگرمیاں عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس سے جڑی ہیں، جو بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

نتیجہ

روس کی رپورٹ افغانستان کو ایک "غیر مستحکم کرنے والا مرکز” قرار دیتی ہے، جہاں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے ممالک کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔

اس تناظر میں روس کی سفارتی اپیل عالمی برادری کے لیے ایک انتباہ ہے کہ افغانستان کی صورتحال کو نظرانداز کرنا خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

***

Share this content: