پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں 56 افغان شہری ہلاک ہوئے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے جمعہ کے روزکہا کہ پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ ہفتے سے اب تک 56 افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 24 بچے بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد نے اب تک شہری ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے 430 سے زیادہ افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

دوسری طرف افغانستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج کے تقریباً 150 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔

فولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 69 ہو چکی ہے جبکہ 141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مبینہ طور پر افغانستان نے سرحدی کارروائی کی، جو اس کے مطابق پہلے کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں تھی۔ اسلام آباد کا کہنا تھا کہ یہ حملے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔

فولکر ترک نے پاکستان کی فوج اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور ان لاکھوں لوگوں کی مدد کو ترجیح دیں، جو انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ اور جن کی زندگیاں طویل عرصے سے تشدد اور بدحالی سے متاثر رہی ہیں۔

سنہ 2025 میں اقوام متحدہ نے افغانستان میں 87 شہریوں کی ہلاکت اور 518 کے زخمی ہونے کی ذمہ داری پاکستانی فوجی دستوں پر عائد کی تھی۔

ترک نے کہا، ”سرحد کے دونوں طرف شہری اب فضائی حملوں، بھاری توپ خانے کی گولہ باری، مارٹر شیلنگ اور فائرنگ سے بچنے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”میں تمام فریقین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تنازعے کو ختم کریں اور شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگوں کی مدد کو ترجیح دیں۔‘‘

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ سرحد پر جھڑپوں کے باعث تقریباً 66 ہزار افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

حالیہ جھڑپوں کے باعث پاکستان سے واپس آنے والے افغان باشندوں کے لیے انسانی امداد بھی رک گئی ہے اور ہنگامی غذائی امداد بھی معطل ہو گئی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس امداد کے رکنے سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ افغانستان پہلے ہی بھوک کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

فولکر ترک نے کہا، ”تشدد کے نتیجے میں انسانی امداد بہت سے ایسے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی جنہیں اس کی شدید ضرورت ہے۔ اور اس کی وجہ سے پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد، جو افغانستان کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، انسانی امداد کے محتاج ہیں، جن میں ایک کروڑ 16 لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہیں۔

Share this content: