میانمار: باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں دھماکہ 55 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

میانمار کے شورش زدہ صوبہ شان میں باغیوں کے زیرِ کنٹرول ایک گاؤں میں ہونے والے خطرناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی سرحد کے قریب نامکھم ٹاؤن شپ کے گاؤں کاؤنگ تات میں ہونے والے دھماکے میں 25 خواتین اور 30 مرد ہلاک ہوئے۔ تاہم بعض دیگر رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔

اتوار کے روز دھماکے کے فوراً بعد گاؤں کے اوپر دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل اٹھتا ہوا دیکھا گیا، جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

علاقے پر کنٹرول رکھنے والی اور فوجی جنتا کے خلاف برسرِ پیکار تنظیم تانگ نیشنل لبریشن آرمی نے کہا ہے کہ کان کنی اور پتھر توڑنے کے کام میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تانگ نیشنل لبریشن آرمی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ دھماکہ ’حادثاتی‘ تھا جو اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے کے قریب ہوا۔

تنظیم کے مطابق ’اس دھماکے کے باعث متعدد مقامی دیہاتی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بہت سے افراد زخمی ہوئے اور ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔‘

واقعے کی ویڈیوز میں زمین پر ایک بہت بڑا گڑھا، ملبے کے ڈھیر، تباہ شدہ عمارتیں، جلے ہوئے درخت اور اب بھی اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے، جو دھماکے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

تانگ نیشنل لبریشن آرمی میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سرگرم طاقتور نسلی مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ میانمار جسے ماضی میں برما بھی کہا جاتا تھا، میں کئی باغی تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتی معدنیات کی کان کنی پر انحصار کرتی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث کانوں کے دھنسنے، دھماکوں اور دیگر حادثات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

Share this content: