پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلان کردہ 9 جون کے لانگ مارچ اور دھرنے سے قبل خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کے لیے تفصیلی ایس او پیز جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم حکومت نے اس احتجاج کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پاکستان کے مختلف حصوں سے 14 ہزار سے زائد سیکیورٹی دستے کشمیر منتقل کر دیے ہیں۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لانگ مارچ کو دبانے اور احتجاج کو روکنے کی کوشش ہے۔
حکومت نے 5 جون کی رات 11:30 بجے سے 12 جون کی رات 12 بجے تک تمام لینڈ لائن انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی پہلے ہی متاثر ہیں۔
مقامی شہریوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بندش لانگ مارچ اور دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق ماضی میں بھی ان کے احتجاج کو اسی طرح سبوتاژ کیا گیا تھا، جس کے دوران فورسز کی فائرنگ سے کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ “عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج ہمیشہ پرامن رہا ہے، لیکن حکومت انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش کے پردے میں ایک بار پھر خونی کھیل کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔”
خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی نقل و حرکت، مواصلاتی نظام کی بندش اور حکومتی اقدامات نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے طاقت کا استعمال کیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
Share this content:


