امریکی جنگی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا، ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاریوں کی اطلاعات

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی بحری بیڑا یو ایس ایس ٹریپولی 3500 سیلرز اور میرینز کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس بحری گروپ کے ساتھ ایک ٹرانسپورٹ اور اسٹرائیک فائٹر ہوائی جہاز بھی تعینات کیا گیا ہے، جس سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں پر مشتمل زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل حملہ نہیں ہوں گی بلکہ سپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ دستوں کے ذریعے محدود نوعیت کی چھاپہ مار کارروائیاں ہوں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ اس منصوبے کی منظوری دیں گے یا نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیج کی جانب جانے والے امریکی بحری جہازوں پر چار ہزار سے زائد میرینز موجود ہیں، جبکہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے پیرا ٹروپرز بھی ہائی الرٹ پر رکھے گئے ہیں۔

خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں یہ اضافہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

Share this content: